ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کردیں۔ ایک ماہ کے دوران اینٹوں کے بھٹوں، صنعتی یونٹس، پلاسٹک استعمال کرنے والوں، تعمیراتی مقامات اور آلودہ پانی خارج کرنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔
ادارہ تحفظ ماحول پنجاب کے مطابق ایک ماہ میں اینٹوں کے بھٹوں کے 5 ہزار 223 معائنے کیے گئے، جس دوران 79 بھٹے مسمار اور 29 سیل کیے گئے، جبکہ بھٹہ مالکان کے خلاف 45 مقدمات درج کرکے 51 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔
صنعتی آلودگی پھیلانے والے یونٹس کے خلاف بھی کارروائی جاری رہی۔ حکام نے 2 ہزار 392 صنعتی یونٹس کی چیکنگ کی، جن میں سے 26 یونٹس مسمار اور 96 سیل کیے گئے، جبکہ خلاف ورزیوں پر 95 لاکھ 72 ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔
پلاسٹک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے دوران ایک ماہ میں 37 ہزار 433 کلوگرام ممنوعہ پلاسٹک ضبط کیا گیا۔ 407 مقامات سیل جبکہ 5 مقدمات درج کیے گئے۔ مجموعی کارروائیوں کے دوران 2 کروڑ 6 لاکھ 32 ہزار روپے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
تعمیراتی گردوغبار اور فیوگیٹو ڈسٹ کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا گیا۔ 228 زیر تعمیر مقامات کی چیکنگ کے دوران 135 نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ 45 مقامات سیل اور 30 مقامات پر مسٹ اسپنکلرز نصب کیے گئے۔
پانی آلودہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی میں 45 مقامات کی چیکنگ کی گئی، 6 نوٹس جاری اور 2 مقامات سیل کیے گئے۔
ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے واضح کیا ہے کہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

