• Home  
  • ’’اٹھارہ سالوں میں جسے ٹھیک ہونا ہوتا وہ ہو جاتا، ہم صوبوں کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں‘‘
- پاکستان

’’اٹھارہ سالوں میں جسے ٹھیک ہونا ہوتا وہ ہو جاتا، ہم صوبوں کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں‘‘

کراچی (25 جولائی 2026): وفاقی وزیر صحت اور مرکزی رہنما ایم کیو ایم مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ’’اٹھارہ سالوں میں جسے ٹھیک ہونا ہوتا وہ ہو جاتا، ہم صوبوں کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔‘‘ مصطفیٰ کمال نے کہا ہم اس ملک میں اختیارات کو نچلی سطح پر لے جانے کے […]

’’اٹھارہ سالوں میں جسے ٹھیک ہونا ہوتا وہ ہو جاتا، ہم صوبوں کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں‘‘

کراچی (25 جولائی 2026): وفاقی وزیر صحت اور مرکزی رہنما ایم کیو ایم مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ’’اٹھارہ سالوں میں جسے ٹھیک ہونا ہوتا وہ ہو جاتا، ہم صوبوں کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔‘‘

مصطفیٰ کمال نے کہا ہم اس ملک میں اختیارات کو نچلی سطح پر لے جانے کے لیے ہر اس قدم کی تائید اور جدوجہد کریں گے جس میں سرفہرست انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانا ہوگا۔

انھوں نے کہا ’’ہم ہر اس آواز کا ساتھ دیں گے جہاں پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی بات ہوگی، فیلڈ مارشل نے 3 سال قبل بزنس کمیونٹی سے ملاقات میں پاکستان میں صوبے بنانے کو نا گزیر قرار دیا تھا، پاکستان چلانے کا کوئی اور حل نہیں ہے۔‘‘

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کا قیام نا گریز ہو گیا ہے، بلوچستان والے پاکستانی آئین اور پارلیمنٹ کو نہیں مان رہے، ہم تو پاکستان بنانے والے اور چلانے والے ہیں ہماری رگوں میں پاکستان بنانے والوں کا خون ہے، ہم ہر اس آواز کا ساتھ دیں گے جہاں پر ایڈمنسٹریٹیو بنیادوں پر صوبے بنانے کی بات ہو رہی ہے، ہم ریاست اور آئین میں رہتے ہوئے صوبوں کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔

ایم کیو ایم رہنما نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسی حکومتوں کے ہاتھ میں ممالک سے بڑے صوبے دے دیے گئے جن سے ایک روڈ نہیں بن رہا، یونیورسٹی روڈ اب تک ان سے نہیں بنایا گیا۔

انھوں نے کہا یہ تقریر کر کے اور گالیاں بک کر سونے والی ایم کیو ایم نہیں ہے، لاجک کے ساتھ پاکستان چلانے والوں کے سامنے مقدمہ رکھیں گے، میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے دور نظامت میں 300 ارب روپے خرچ کیے، لاہور کراچی سے آج پچاس سال آگے چلا گیا ہے جس پر ہمیں خوشی ہے لاہور کے لیے، لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت ہمیں مار رہی ہے، ہمیں پینے کا پانی نہیں دیتی، بچوں کو اسکول نہیں دیتی۔

وزیر صحت نے کہا ’’سندھ میں بچے کا دماغ اور جسم نہیں بڑھ رہا، 2 کروڑ 60 لاکھ بچے سندھ میں اسکولوں سے باہر ہیں، سندھ میں سب سے زیادہ کتے کے کاٹنے سے بچے جان کی بازی ہار رہے ہیں، گٹر میں گر کر بچوں کی جانیں جا رہی ہیں، کل خیرپور میں 18 مائیں بیٹھی ہیں جن کے بچے اغوا ہیں۔‘‘

مصطفیٰ کمال نے کہا ’’اگر ہم دودھ دینے والی گائیں ہیں، تو آپ ہمیں چارہ نہیں کھلا رہے، ایک نسل جوان ہو گئی جس نے نلکے میں پانی نہیں دیکھا، کوٹہ سسٹم پر بھی اس کو نوکری نہیں ملی۔‘‘

انھوں نے کہا ہم نے تمام مسائل کے حل کے لیے آئینی ترمیم بھی پیش کر دی، ہم نے اسمبلیوں میں بات کر لی لیکن وہ نہیں مان رہے، ایم کیو ایم نے فیصلہ کیا ہے اب خاموش نہیں رہیں گے، اب ہم پاکستان کے آئین کے مطابق مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر آ رہے ہیں، وزرات کو ہم جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، کل شاہ فیصل ٹاؤن میں ایک جلسہ رکھا ہے۔

About Us

Lorem ipsum dol consectetur adipiscing neque any adipiscing the ni consectetur the a any adipiscing.

Email Us: infouemail@gmail.com

Contact: +5-784-8894-678

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.