• Home  
  • یورپی یونین کا اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر اپنی سلامتی کونسل بنانے کا اعلان
- دنیا

یورپی یونین کا اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر اپنی سلامتی کونسل بنانے کا اعلان

برسلز(17 ستمبر 2026): یورپی یونین نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اپنی الگ سکیورٹی کونسل قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا واندرلین نے بدھ کے روز یورپی پارلیمنٹ میں اپنے ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب کے دوران اس نئی یورپی سلامتی کونسل کے قیام کی باضابطہ تجویز پیش […]

یورپی یونین کا اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر اپنی سلامتی کونسل بنانے کا اعلان

برسلز(17 ستمبر 2026): یورپی یونین نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اپنی الگ سکیورٹی کونسل قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا واندرلین نے بدھ کے روز یورپی پارلیمنٹ میں اپنے ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب کے دوران اس نئی یورپی سلامتی کونسل کے قیام کی باضابطہ تجویز پیش کی۔

اس تجویز کے تحت بننے والی سکیورٹی کونسل میں یورپی یونین کے علاوہ برطانیہ، ناروے، یوکرین اور کینیڈا کے رہنماؤں کو بھی شامل کیے جانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

خطاب کے دوران یورپی کمیشن کی صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں یورپ کو ہائبرڈ حملوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے اپنے ایک الگ لائحہ عمل کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سکیورٹی کونسل کی تشکیل میں یوکرین، برطانیہ، ناروے، کینیڈا اور دیگر اہم شراکت داروں کو بھی ساتھ رکھا جائے گا۔

اس مقصد کے تحت یورپی کمیشن کی صدر نے ہائبرڈ حملوں سے نمٹنے کے لیے باہمی ردعمل میں ہم آہنگی پیدا کرنے کا ایک نیا نظام بھی تجویز کیا ہے۔

واضح رہے کہ ان ہائبرڈ واقعات میں تخریب کاری، آتش زنی اور ڈرونز کی دراندازی جیسے اقدامات شامل ہیں، جنہیں عام طور پر روس سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ اقدامات روایتی فوجی حملوں کی حد تک نہیں پہنچتے، تاہم یہ یورپی سلامتی کو شدید نقصان پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، ان تجاویز سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یورپی حکام اب براعظم کی سلامتی کی زیادہ تر ذمہ داری خود اپنے کندھوں پر اٹھانے کے خواہشمند ہیں۔

اس فیصلے کے پس منظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو فوجی اتحاد کے تحت یورپ کی مدد کرنے کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات بھی ایک اہم محرک مانے جا رہے ہیں۔

تاہم، ان تجاویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہ آنے کے باعث بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ نئے اقدامات کہیں نیٹو کے موجودہ ڈھانچوں کی نقل ثابت نہ ہوں، جس سے ممکنہ طور پر ابہام پیدا ہو سکتا ہے اور یہ محض گفت و شنید کے لیے قائم کیے گئے فورمز تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.