حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں یومیہ طے کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی یومیہ قیمت کا بینچ مارک 7دن کی اوسط قیمت ہو گی۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز آج شام باقاعدہ نئے طریقہ کار کا اعلان کریں گے۔حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان بھی آج کیا جائے گا۔
امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی فوجی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات نے عالمی تیل مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے، جس کے باعث پاکستان میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی منڈی میں جولائی کے آغاز پر برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تک آ گئی تھی، تاہم جنگی خدشات بڑھنے کے بعد صرف دو ہفتوں میں قیمت بڑھ کر 85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، یعنی خام تیل تقریباً 15 ڈالر فی بیرل مہنگا ہو گیا۔
دوسری جانب پاکستان میں حالیہ اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 310.71 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 323.30 روپے فی لیٹر ہو چکی ہے۔ حکومت بھارت کی طرز پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کے نظام پر بھی غور کر رہی ہے، جس کے نفاذ کی صورت میں عالمی منڈی میں روزانہ کی تبدیلیاں براہِ راست مقامی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

