اسلام آباد : سندھ میں شیل گیس کے ذخائرکی موجودگی ثابت ہونے کے بعد دونوں کنوؤں کی بڑے پیمانے پر ڈرلنگ شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ملک کے تیل و گیس کے شعبے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے سندھ میں شیل گیس کی دریافت اور ترقی کے منصوبے پر عملی کام شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
او جی ڈی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر احمد حیات لک نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ سندھ کے حیدرآباد اور سانگھڑ کے علاقوں میں شیل گیس کے بڑے ذخائر کی موجودگی ثابت ہو چکی ہے، جبکہ شیل گیس کی کمرشل بنیادوں پر دستیابی کے لیے شروع کیا گیا پائلٹ پراجیکٹ بھی کامیاب رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ورٹیکل ویل کی ڈرلنگ کے بعد تکنیکی طور پر شیل گیس کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی ہے ، ابتدائی تخمینوں کے مطابق سندھ میں 7.5 ٹریلین کیوبک فٹ (TCF) تک شیل گیس کے ذخائر موجود ہیں۔
ایم ڈی او جی ڈی سی ایل کا کہنا تھا کہ ستمبر میں ہوریزنٹل ویل کی ڈرلنگ کے لیے رگ نصب کر دی گئی ہے، جبکہ اس مرحلے کی تکمیل کے چند ماہ بعد دوسرے مقام پر بھی دریافت کا آغاز کیا جائے گا۔ دونوں کنوؤں کی کامیاب ڈویلپمنٹ کے بعد بڑے پیمانے پر ڈرلنگ شروع کی جائے گی۔
احمد حیات لک نے مزید بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے آئندہ چند ماہ میں او جی ڈی سی ایل کی پیداوار ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کی توقع ہے، کمپنی کا ریزرو ریپلیسمنٹ ریشو 160 فیصد تک برقرار ہے، جو مستقبل میں توانائی کے ذخائر میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

