ورلڈ بینک نے سندھ میں سندھ پراپرٹی پروگرام کے لیے 15 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد شہری علاقوں میں پراپرٹی ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانا اور بلدیاتی اداروں کی مالی استعداد میں اضافہ کرنا ہے۔
ورلڈ بینک کے اعلامیے کے مطابق پروگرام سے کراچی کی 25 لوکل کونسلز کے 35 لاکھ 80 ہزار افراد مستفید ہوں گے، جبکہ سندھ کے دیگر شہری مراکز کی 20 لوکل کونسلز تک پراپرٹی سروے کا دائرہ بھی بڑھایا جائے گا، جس سے مزید 45 لاکھ افراد بالواسطہ فائدہ اٹھائیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کراچی اس وقت سالانہ صرف 85 لاکھ ڈالر پراپرٹی ٹیکس جمع کرتا ہے، جبکہ اسی حجم کے دیگر شہر 82 سے 350 گنا زیادہ پراپرٹی ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ پروگرام کا ہدف سالانہ پراپرٹی ٹیکس وصولی کو 85 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 8 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک لے جانا ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق سندھ کی لوکل کونسلز اپنی 95 فیصد سے زائد آمدن کے لیے صوبائی حکومت کی مالی منتقلی پر انحصار کرتی ہیں۔ پروگرام کے تحت جمع ہونے والے پراپرٹی ٹیکس کا 70 فیصد بلدیاتی انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات کی بہتری پر خرچ کیا جائے گا۔

