وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پولیو کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں فرنٹ لائن پر کام کرنے والے پولیو ورکرز کو قوم کے ہیرو قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات اور جذبے کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
مریم نواز شریف نے پنجاب سے پولیو کے 100 فیصد خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے والدین اور کمیونٹی سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ان کے محفوظ مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیو ویکسینیشن سے انکار دراصل بچوں کے محفوظ مستقبل سے انکار ہے۔ والدین پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ رواں برس اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پنجاب میں پولیو کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا، تاہم صوبے سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل اور مؤثر اقدامات جاری رکھنا ضروری ہیں۔
پولیو کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ انسدادِ پولیو کے قطرے مکمل طور پر محفوظ، مؤثر اور بچوں کی زندگی اور صحت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ والدین پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو ہر انسدادِ پولیو مہم کے دوران ویکسین کے دو قطرے لازمی پلوائیں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب میں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر اور محکمہ صحت متحرک ہیں۔ انسدادِ پولیو مہم کے تحت صوبے کے 13 حساس اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر ایک کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے ہیں۔
مریم نواز شریف کے مطابق لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں باقاعدگی سے انسدادِ پولیو مہم منعقد کی جاتی ہے، جبکہ ملک بھر کے ساتھ پنجاب کے منتخب اضلاع میں 2 سے 8 نومبر 2026 تک ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کے انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیو کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صوبے بھر میں ماحولیاتی نمونوں کی مسلسل جانچ کی جاتی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ مینجمنٹ ٹیمیں (DHMT)، عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے نمائندے اور ضلعی انتظامیہ انسدادِ پولیو مہم کی نگرانی کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے، تاہم مسلسل اور ہمہ جہت کوششوں کے بغیر پولیو دوبارہ پھیل سکتا ہے۔ بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے والدین، کمیونٹی اور متعلقہ اداروں کا تعاون ناگزیر ہے۔

