حکومت پنجاب نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پنجاب کلائمیٹ چینج ایکٹ 2026 متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ مجوزہ قانون کی تیاری میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی معاونت حاصل کی جائے گی۔
حکام کے مطابق مجوزہ کلائمیٹ چینج ایکٹ کی تشکیل کے لیے برطانیہ، سوئٹزرلینڈ سمیت 15 ممالک کے موسمیاتی قوانین کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے تاکہ عالمی بہترین طریقہ کار کو قانون سازی میں شامل کیا جا سکے۔
مجوزہ قانون کے تحت سموگ، فضائی آلودگی، سیلاب اور ہیٹ ویوز جیسے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے گا، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے زراعت، انسانی زندگی اور ماحول کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
حکومت کے مطابق ایکٹ میں قابل تجدید توانائی، شجرکاری اور ماحول دوست ترقی کے فروغ کے لیے قانون سازی کی جائے گی، جبکہ موسمیاتی منصوبوں کے لیے عالمی فنڈنگ اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔
مجوزہ قانون کے تحت موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق سرکاری محکموں کی ذمہ داریاں اور جواب دہی بھی واضح کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پنجاب کلائمیٹ چینج ایکٹ 2026 کو پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

