• Home  
  • آئی ایم ایف کی شرط پر بجلی اور گیس سبسڈی کا نیا نظام لانے کا فیصلہ
- پاکستان

آئی ایم ایف کی شرط پر بجلی اور گیس سبسڈی کا نیا نظام لانے کا فیصلہ

پاکستان میں بجلی اور گیس کی سبسڈی کا موجودہ نظام تبدیل کرنے کی تیاریاں تیز کردی گئی ہیں، جس کے تحت کراس سبسڈی اور موجودہ سلیب نظام ختم کرکے مالی امداد صرف مستحق اور کم آمدنی والے صارفین تک محدود کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کے دباؤ […]

آئی ایم ایف کی شرط پر بجلی اور گیس سبسڈی کا نیا نظام لانے کا فیصلہ

پاکستان میں بجلی اور گیس کی سبسڈی کا موجودہ نظام تبدیل کرنے کی تیاریاں تیز کردی گئی ہیں، جس کے تحت کراس سبسڈی اور موجودہ سلیب نظام ختم کرکے مالی امداد صرف مستحق اور کم آمدنی والے صارفین تک محدود کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کے دباؤ کو کم کرنے اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے پاور ڈویژن نے عالمی بینک کے تعاون سے مستحق صارفین کی سماجی و اقتصادی رجسٹری تیار کرنے پر کام شروع کردیا ہے۔ اس رجسٹری میں صارفین کی شمولیت کا عمل نومبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

متعلقہ حکام کے مطابق صارفین کے کوائف کی تصدیق کے بعد اس رجسٹری کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا سے منسلک کیا جائے گا، جس کی مدد سے سبسڈی کے اہل خاندانوں کی نشاندہی کی جاسکے گی۔

دوسری جانب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے مجوزہ تبدیلیوں کے تحت ٹرانزیکشن مرحلے کی تیاری کے لیے بنیادی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی درخواستیں دائر کردی ہیں۔ منصوبے کے مطابق بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کو مستحق اور کم آمدنی والے صارفین تک محدود کیا جائے گا، جبکہ آئی ایم ایف کو بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور اصلاحات سے متعلق تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

منصوبے کے تحت بجلی کے موجودہ ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی اور کراس سبسڈی نظام کو جنوری 2027 تک ختم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد صارفین کی سبسڈی کے لیے اہلیت کا تعین نئی سماجی و اقتصادی رجسٹری کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

گیس کے شعبے میں بھی اسی نوعیت کی تبدیلیاں متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ گیس صارفین کو یکم جولائی 2027 سے سماجی و اقتصادی رجسٹری سے منسلک کیا جائے گا، جس کے بعد ان کی سبسڈی کے لیے اہلیت کا فیصلہ متعلقہ ڈیٹا کی بنیاد پر ہوگا۔

مجوزہ نظام کا مقصد توانائی کے شعبے میں سبسڈی کو زیادہ ہدفی بنانا اور سرکاری مالی وسائل کا فائدہ مستحق خاندانوں تک پہنچانا ہے۔ تاہم نئے نظام کے تحت صارفین کے لیے سبسڈی کی اہلیت اور بلوں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا انحصار حتمی پالیسی اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر ہوگا۔

اہم ادارتی نکتہ: چونکہ خبر میں نظام کی تبدیلی کے لیے تیاریوں اور مقررہ اہداف کا ذکر ہے، اس لیے عنوان میں ’’ختم کرنے کی تیاری‘‘ یا ’’نیا نظام متعارف کرانے کا منصوبہ‘‘ لکھنا زیادہ درست ہے، بجائے اس کے کہ نظام ختم ہونے کو حتمی فیصلہ یا مکمل شدہ اقدام ظاہر کیا جائے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.