پنجاب بھر میں شہریوں کو اب ایف آئی آرز کی کاپی بڑے اور واضح فونٹ میں فراہم کی جائے گی۔ پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ ایف آئی آرز کا فونٹ سائز بڑھا کر 14 کر دیا گیا ہے اور اس پر صوبے بھر میں عملدرآمد بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں ایف آئی آرز کا فونٹ بڑا کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے میاں جمیل احمد کی درخواست پر سماعت کی، جبکہ ڈی آئی جی لیگل اویس احمد ملک سمیت دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر نے آئی جی پنجاب پولیس کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عدالت کی ہدایت پر ایف آئی آرز کا فونٹ سائز بڑھا دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ کیا پورے پنجاب میں اس فیصلے پر عملدرآمد ہوچکا ہے؟
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب بھر میں ایف آئی آرز کا فونٹ سائز بڑھانے کے فیصلے پر عملدرآمد ہوچکا ہے اور اب شہریوں کو 14 فونٹ سائز میں ایف آئی آر کی کاپی فراہم کی جائے گی۔
سماعت کے دوران سابق ایس ایچ او چوہنگ راشد امین بٹ کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست بھی زیر سماعت آئی۔
درخواست گزار میاں جمیل احمد نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی توہین عدالت کی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔
عدالت نے درخواست واپس لینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی۔

