• Home  
  • کوئٹہ : سورینج میں کوئلے کی کان میں خوفناک دھماکا ، 34 کان کن جاں بحق
- پاکستان

کوئٹہ : سورینج میں کوئلے کی کان میں خوفناک دھماکا ، 34 کان کن جاں بحق

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں دھماکے کے نتیجے میں 34 کان کن جان بحق ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج کی ایک کوئلہ کان میں اچانک میتھین گیس بھر جانے سے خوفناک دھماکا ہوا۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ […]

کوئٹہ : سورینج میں کوئلے کی کان میں خوفناک دھماکا ، 34 کان کن جاں بحق

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں دھماکے کے نتیجے میں 34 کان کن جان بحق ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج کی ایک کوئلہ کان میں اچانک میتھین گیس بھر جانے سے خوفناک دھماکا ہوا۔

دھماکا اس قدر شدید تھا کہ کان کا ایک بڑا حصہ بیٹھ گیا، جس کے نتیجے میں وہاں کام میں مصروف درجنوں کان کن ملبے تلے دب کر پھنس گئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پی ڈی ایم اے، محکمہ مائنز اور دیگر امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور ریسکیو کارروائیوں کا آغاز کیا۔

کوئلے کی کان میں گیس دھماکے کے بعد اب تک 34 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ زیرِ زمین پھنسے دیگر مزدوروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن دوسرے روز بھی مسلسل جاری ہے۔

جاں بحق ہونے والے مزدوروں میں سے بیشتر کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ سے ہے، جبکہ 11 مزدوروں کی لاشیں آبائی علاقے روانہ کر دی گئی ہیں۔

چیف انسپکٹر مائنز محمد عاطف نے میڈیا کو بتایا کہ حادثے کے وقت تمام کان کن زمین سے تقریباً ڈھائی سے تین ہزار فٹ کی گہرائی میں کام کر رہے تھے، دھماکے کے باعث کان میں ہوا اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے بنایا گیا متبادل راستہ بھی شدید متاثر ہوا ہے، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو آپریشن میں شدید مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔”

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، حادثے کے وقت کان کے اندر مجموعی طور پر 41 کان کن موجود تھے، اب تک مسلسل کوششوں کے بعد 34 کان کنوں کی لاشیں نکال کر سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دی گئی ہیں، جہاں ضابطے کی کارروائی اور شناخت کے بعد میتیں ان کے آبائی علاقوں میں روانہ کی جائیں گی۔

کان میں پھنسے ہوئے باقی 7 کان کنوں کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری اور دستیاب وسائل کے ساتھ مسلسل کوشاں ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ آخری کان کن کے نکالے جانے تک یہ آپریشن بلا تعطل جاری رہے گا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے افسوسناک حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ مائنز اینڈ منرلز سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔

انہوں نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، حادثے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

بلوچستان کے صوبائی وزیر برائے مائنز اینڈ منرلز، شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ انتہائی مشکل حالات کے باوجود ریسکیو اہلکار آپریشن میں مصروف ہیں اور پھنسے ہوئے مزدوروں کو نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

صوبائی وزیر نے جاں بحق ہونے والے کان کنوں کے لواحقین سے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان حکومت کی جانب سے اعلان کیا کہ جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کے لیے 5,00,000 روپے فی کس اور زخمی ہونے والے مزدوروں کے لیے 3,00,000 روپے فی کس دیئے جائیں گے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

About Us

Lorem ipsum dol consectetur adipiscing neque any adipiscing the ni consectetur the a any adipiscing.

Email Us: infouemail@gmail.com

Contact: +5-784-8894-678

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.