سلام آباد (29 جولائی 2026): چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے ریاست کی بات کی، اس سے مراد اسٹیبلشمنٹ نہیں تھا۔
واضح رہے کہ آج مظفر آباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے بیان دیا کہ ’ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی مفاد اہم ہیں یا مسلم لیگ (ن) کے مفادات کو تحفظ دینا ہے‘۔ تاہم انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں اپنے بیان کی وضاحت کی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قومی مفاد کے ہر فیصلے میں پیپلز پارٹی ساتھ کھڑی ہے، خطے کی صورتحال میں پاکستان کا جو کردار ہے اس لحاظ سے قومی مفاد میں اتفاق نظر آنا چاہیے۔
میرے کارکن کو قتل کر کے ایک سیٹ چوری کی گئی
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں مشکل صورتحال کا سامنا ہے، اس تناظر میں الیکشن انتہائی شفاف ہوتے تو بہتر تھا، میرے کارکن کو قتل کر کے ایک سیٹ چوری کی گئی، میرے امیدوار چوہدری یاسین کی سیٹ کے 30 پولنگ اسٹیشنز پر قبضہ ہوا ہے، پولنگ ایجنٹ کو باہر پھینک کر قبضہ کیا گیا، ہم قانونی راستہ اپنا کر اپنی سیٹوں کو واپس لیں گے۔
سیٹیں چوری کرنے کی کوشش برداشت نہیں کروں گا
انہوں نے کہا کہ میں نے آزاد جموں و کشمیر میں بھرپور انتخابی مہم چلائی ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی وزرا کی موجودگی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے، جی بی اور اب میرپور میں سیٹیں چوری کرنے کی کوشش کی گئی یہ برداشت نہیں کروں گا، جن امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے ان کو انصاف دلانے کی کوشش کروں گا۔
ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن بنانے کی تجویز
’آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر خط لکھ کر تجویز دی کہ ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن قائم کریں۔ کسی نے قانون ہاتھ میں لیا ہے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ میں نے درخواست کی احتجاج کرنے والے احتجاج روکیں اور حکومت بھی کوئی قدم نہ اٹھائے، لیکن بدقسمتی سے میری تجویز پر دونوں طرف سے کوئی جواب نہیں آیا، اگر میری تجویز پر جواب نہیں دینا تو نہ دیں لیکن پھر مسئلے کا حل بتا دیں۔‘
وفاقی وزرا کے الزامات بہت بڑے اور سنجیدہ ہیں
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لوگ شہید ہو رہے ہیں، پولیس اور فوج کے جوان بھی شہید ہو رہے ہیں، اس قسم کا اسلحہ استعمال کر کے پرامن احتجاج نہیں کیا جا سکتا، عام شہریوں کا احتجاج میں غلط استعمال کیا جا رہا ہے تو یہ بھی مفاہمتی کمیشن کو طے کرنا چاہیے، ہمیں الزام تراشی کے علاوہ کوئی اور طریقہ اپنانا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ وفاقی وزرا کے الزامات حقائق پر مبنی نہیں تو یہ کشمیر کاز اور آزاد جموں و کشمیر کیلیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں، ان کے الزامات بہت بڑے اور سنجیدہ ہیں۔
ن لیگ کی آمرانہ سوچ یہ ہے
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ سیاسی بات کی کبھی کسی کی ذات پر بات نہیں کی، لیکن ان کے وزیروں نے ذاتی حملے کیے مگر میں نے جواب نہیں دیا، ن لیگ کی آمرانہ سوچ یہ ہے ان کی گورننس پر بات کریں تو وہ کہیں گے ذاتی حملہ کر دیا، میں گالیاں نہیں دے رہا، ذاتیات پر نہیں آ رہا میں تو صرف مثبت سیاست کر رہا ہوں، میں اپنی سیاست اسی طرح کرتا رہوں گا ان کو بے فکر رہنا چاہیے، میں نے کہیں ذاتی حملہ کیا ہے تو بتائیں۔

