کوٹلی (29 جولائی 2026): آزاد کشمیر کے صدر نے فرائض میں غفلت برتنے پر 3 پولیس افسران اور ڈپٹی کمشنر کوٹلی کو معطل کر دیا۔
سینئر جنرل انسپکٹر پولیس آزاد کشمیر سرتاج عزیز کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، سرتاج عزیز کے خلاف سول سرونٹس قوانین کے تحت کارروائی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
سید عثمان اعظم قائم مقام سینئر جنرل انسپکٹر مقرر کر دیے گئے ہیں، فرائض میں غفلت و لاپرواہی برتنے پر ایس پی کوٹلی عدیل احمد بھی معطل کر دیے گئے۔
ایس ایچ او تھانہ صدر میرپور کو بھی غفلت اور فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی پر معطل کر دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر ضلع کوٹلی عمران شاہین بھی مس کنڈکٹ پر معطل کر دیے گئے۔ محمد عثمان صارم نئے ڈپٹی کمشنر کوٹلی تعینات کیے گئے ہیں جن کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہو گیا۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر الیکشن کے پہلے مرحلے میں ن لیگ کو کامیاب قرار دیا گیا ہے، غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق میرپور ڈویژن کی 9 نشستوں پر مسلم لیگ ن اور 4 پر پیپلز پارٹی کامیاب ہو ئی ہے۔
بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر الیکشن کے نتائج مسترد کر دیے، انھوں نے کہا کہ ریاست نے فیصلہ کرنا ہے کہ قومی مفاد اہم ہے یا ن لیگ کا مفاد، ن لیگ کے مفاد کے نام پر جو ملک کا حال ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔
بلاول نے مظفر آباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب میں کہا پولنگ اسٹیشنز پر حملے ہوں، انٹرنیٹ بند ہو تو یہ آزاد نہیں مقبوضہ کشمیر لگے گا، آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر نہیں بننے دیں گے۔ انھوں نے کہا میرپور کے عوام نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا الیکشن کے دوران 30 پولنگ اسٹیشنز پر حملے کیے گئے۔
چیئرمین پی پی نے کہا ہم پرامن رہنا چاہتے ہیں ہمیں پرامن رہنے دیا جائے، کہیں پیپلز پارٹی کا بھی اعتبار نہ اٹھ جائے، ہم شہید بے نظیر بھٹو کی سیاست کرنا چاہتے ہیں، ورنہ میں مرتضیٰ اور شاہنواز کا بھانجا اور آصف زرداری کا بیٹا ہوں۔

