انتظامیہ کی مبینہ غفلت پر عوام کا شدید احتجاج؛ وزیراعلیٰ پنجاب سے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور بند کی فوری مرمت کا مطالبہ: پریس ریلیز
وزیرآباد: حالیہ موسلا دھار بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث دھونکل ڈسٹری بیوٹری کا دایاں کنارہ ٹوٹ جانے سے قریبی گاؤں گنیاں والا اور اڈہ گنیاں والا سمیت گردونواح کے علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہو گیا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ جبکہ متعدد مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔
ذرائع کے مطابق ڈسٹری بیوٹری کا مذکورہ کنارہ سڑک کی تعمیر کے دوران ٹھیکیدار کی جانب سے مٹی نکالنے کے باعث پہلے ہی کمزور ہو چکا تھا۔ حالیہ بارشوں کے دوران پانی کے شدید دباؤ نے بند کو مزید کمزور کر دیا، جو بالآخر ٹوٹ گیا اور سیلابی پانی تیزی سے زرعی اراضی اور آبادی میں پھیل گیا۔
متاثرہ دیہات کے مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ممکنہ خطرے اور بعد ازاں بند ٹوٹنے کی اطلاع متعدد بار اسسٹنٹ کمشنر وزیرآباد، ایس ڈی او (انہار) نوکھر اور دیگر متعلقہ حکام کو دی، مگر بروقت کارروائی نہ ہونے کے باعث نقصان میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔
متاثرین کے مطابق امدادی ٹیمیں بھی بروقت موقع پر نہ پہنچ سکیں، جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اہلِ علاقہ اور مقامی نمائندوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، غفلت اور لاپرواہی کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ ڈسٹری بیوٹری کے متاثرہ کنارے کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کر کے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

