نیویارک (20 جولائی 2026): فیفا ورلڈ کپ 2026 فائنل میں ارجنٹینا کو ہرا کر اسپین فٹبال کا دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا ہے، اس نے ارجنٹینا کو 0-1 سے شکست دی، اسپین کے کپتان اور مڈ فیلڈر روڈریگو ہرنینڈیز نے ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ بھی جیت لیا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ میں روڈریگو نے ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا ’’گولڈن بال‘‘ ایوارڈ اپنے نام کیا، اسپین ہی کے اونائی سیمون کو بہترین گول کیپر کی کارکردگی پر ’’گولڈن گلوو‘‘ سے نوازا گیا، جب کہ پاؤ کوبارسی نے اپنے 19 سالہ ساتھی کھلاڑی لامین یمال کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ’’بہترین نوجوان کھلاڑی‘‘ کا اعزاز حاصل کیا۔
گولڈن بال
ارجنٹینا کے اسٹار لیونل میسی ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کے طور پر تیسری بار گولڈن بال جیتنے کے خواہاں تھے۔ 1978 میں اس ایوارڈ کے آغاز کے بعد وہ واحد کھلاڑی ہیں جنھوں نے اسے ایک سے زیادہ مرتبہ جیتا ہے، اور 39 برس کی عمر میں ارجنٹینا کو مسلسل دوسری بار ورلڈ کپ فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرنے کے باعث وہ ایک بار پھر اس اعزاز کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے۔
تاہم، یہ اعزاز اسپین کے مڈ فیلڈر روڈری کے حصے میں آیا، جنھوں نے اسپین کی قیادت کرتے ہوئے ٹیم کو اپنے دوسرے ورلڈ کپ ٹائٹل تک پہنچایا۔ میسی کو ’’سلور بال‘‘ پر اکتفا کرنا پڑا، جب کہ فرانس کے کیلیان ایمباپے نے ’’برونز بال‘‘ حاصل کر لیا۔
روڈری
ایوارڈ وصول کرنے کے بعد کپتان روڈریگو نے کہا ’’ایسا لگتا ہے جیسے سب کچھ ایک مکمل اسکرپٹ کے مطابق ہوا ہو۔ مجھے ہرگز اس کی توقع نہیں تھی۔ یہ ٹیم غیر معمولی ہے۔ ہم دو مرتبہ کے عالمی چیمپئن بن چکے ہیں۔ یہ ایک انتہائی مشکل کارنامہ ہے، شاید سب سے مشکل، اور ہم نے یہ کامیابی ارجنٹینا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف حاصل کی۔‘‘
صرف ایک گول: اسپین نے فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ کا منفرد ریکارڈ اپنے نام کر لیا
روڈری نے 2024 میں بیلن ڈی اور جیتا تھا، لیکن دو سال قبل ان کے دائیں گھٹنے کا اینٹیریئر کروشیئیٹ لیگامنٹ (ACL) پھٹ گیا تھا، اور انھیں سخت مشکلات کا سامنا رہا، تاہم گولڈن بال کا یہ اعزاز جیتنے سے یہ واضح ہوا ہے کہ ان کی واپسی شان دار طریقے سے ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا ’’مجھے اس پر فخر ہے اور میں چاہتا ہوں کہ نئی نسل یہ دیکھے کہ یہ ممکن ہے۔ ایک کھلاڑی جو آسمان کی بلندیوں کو چھونے کے بعد اچانک گہرائی میں گر جائے، وہ دوبارہ اٹھ کر عروج حاصل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ یہ مشکلات پر قابو پانے کی ایک مثال ہے، اور انسان کو یقین رکھنا چاہیے۔ سچ کہوں تو یہ ناقابلِ یقین ہے۔‘‘
روڈری کوئی گول نہ کر سکا
مانچسٹر سٹی کے مڈفیلڈر روڈری ٹورنامنٹ میں کوئی گول نہ کر سکے، تاہم ان کی درست پاسنگ اور گیند پر کنٹرول اسپین کے کھیل کا بنیادی حصہ رہے۔ وہ ورلڈ کپ، یوئیفا چیمپئنز لیگ اور بیلن ڈی اور جیتنے والے تاریخ کے 11 ویں کھلاڑی بن گئے ہیں۔
اونائی سیمون
اونائی سیمون نے ٹورنامنٹ میں 7 کلین شیٹس کے ساتھ نیا ریکارڈ قائم کیا اور 8 میچوں میں صرف ایک گول کھایا۔ سیمون نے کہا ’’یہ اعداد و شمار پوری ٹیم کی دفاعی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر آپ ورلڈ کپ جیتنا چاہتے ہیں تو مستقل مزاجی ضروری ہے، اور ہم نے یہ کامیابی اجتماعی کوشش سے حاصل کی۔‘‘
انھوں نے مزید کہا ’’ہم نے کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال، ایمباپے کی فرانس اور اب میسی کی ارجنٹینا جیسی ٹیموں کا سامنا کیا، جن کے کھلاڑی کسی بھی لمحے کھیل کا نقشہ بدل سکتے تھے۔ ہم نے اپنے اعصاب پر قابو رکھا، جذبات کو کنٹرول میں رکھا، اور یہی ہماری کامیابی کی کنجی ثابت ہوئی۔‘‘
گولڈن بوٹ کس کے نام؟
واضح رہے کہ کلیان ایم باپے نے 10 گول اور 4 اسسٹ کے ساتھ ’گولڈن بوٹ‘ اپنے نام کر لی ہے، حالاں کہ فرانس کی ٹیم چوتھے نمبر پر رہی۔ دوسری جانب، میسی نے ٹورنامنٹ کا اختتام 8 گول اور 4 اسسٹ کے ساتھ کیا۔ اتوار کے فائنل میں وہ اپنی گزشتہ 12 ورلڈ کپ مقابلوں کی تاریخ میں پہلی بار نہ کوئی گول کر سکے اور نہ ہی کوئی اسسٹ دے سکے۔

