تل ابیب(6 نومبر 2026): اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینون نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے تجزیے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینون نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس تجزیے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے حالیہ مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی عبرتناک شکست کی اصل وجہ ایران کے خلاف جنگ کو قرار دیتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔
24 نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈینی ڈینون نے کہا کہ ہر بات پر ہمیشہ اسرائیل کو قصوروار ٹھہرانا بہت آسان ہے، لیکن حقیقت ایسی نہیں ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بہت سے لوگوں نے مہنگائی اور اسرائیل کی موجودہ صورتحال کو آپس میں جوڑ دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’’ایران پر حملے کا فیصلہ امریکا کا اپنا فیصلہ تھا، یہ ہمارا فیصلہ نہیں تھا۔ ہم نے امریکی کوششوں کی حمایت کی تھی اور ہم اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ وہ ایک درست فیصلہ تھا۔‘‘
’ ایران کے معاملے میں اسرائیلی وزیراعظم ہر لحاظ سے غلط تھے‘جے ڈی وینس کی نیتن یاہو پر سخت تنقید
یاد رہے کہ رواں سال کے آخر فروری میں امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملے کیے تھے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، جنگ شروع ہونے سے چند ہفتے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات شیئر کی تھیں، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملے کی صورت میں ایرانی عوام خود اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔
تاہم، ایسا کوئی حکومتی تختہ الٹ یا انقلاب رونما نہیں ہوا، بلکہ اس کے برعکس ایران نے اہم اسٹریٹجک گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کا کنٹرول سنبھال لیا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں توانائی اور تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔
بدھ کے روز، جب انتخابات کے نتیجے میں ریپبلکن پارٹی کو سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، تو نائب صدر جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا ’’ہماری شکست کی اصل وجہ تقریباً ہر ایک پر عیاں ہے۔۔۔ ہمارے ہارنے کی اصل وجہ ایران جنگ ہے۔ خود صدر نے گزشتہ رات ایسا ہی کہا تھا۔‘‘اگرچہ صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ اس کی ایک وجہ ایران بھی تھا۔
جے ڈی وینس نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ان کے پاس موجود رائے شماری کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ٹرمپ کے ووٹرز چاہتے ہیں کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو تبدیل کرے، ایران کے ساتھ جاری جنگ کا خاتمہ کرے، مہنگائی اور زندگی کے اخراجات پر توجہ دے، اور “پہلے امریکا” کی پالیسی کو اپنائے۔
اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینون نے اپنے انٹرویو میں اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اسرائیل کو اب امریکی سیاسی منظر نامے، خاص طور پر ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں پارٹیوں میں موجود ان آوازوں پر “توجہ دینا ہوگی” جو اسرائیل پر سخت تنقید کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا میں اسرائیل مخالف سیاستدانوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے مستقبل میں ان کے لیے حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔ جب اسرائیلی سفیر سے انتخابات کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ ڈیل کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے دوٹوک کہا کہ ’ہم ہمیشہ اپنے دفاع کے لیے جو بھی ضروری ہوگا، وہ ضرور کریں گے۔‘
