اسلام آباد : پاکستان میں بینکوں اور اہم تنصیبات پر اے آئی کے ذریعے سائبرحملوں کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے مالیاتی اداروں، بینکوں اور اہم قومی تنصیبات پر سائبر حملوں کا خطرہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
سنگین صورتحال کے پیش نظر نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے ایک اہم اور ہنگامی سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
ایڈوائزری میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہیکرز کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خودکار بوٹس کا استعمال کرتے ہوئے سائبر حملوں کی رفتار اور شدت میں خطرناک حد تک اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ملک بھر کے بینکوں کا آن لائن نظام، ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارمز اور لاکھوں صارفین کا نجی ڈیٹا ہیکرز کے مرکزی نشانے پر ہے۔
ہیکرز جدید اے آئی سسٹمز کی مدد سے صارفین کے اکاؤنٹس میں جعلی بیلنس یا گڑبڑ دکھا کر عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
FOLLOW US ON ARY TUBE
مصنوعی ذہانت کے غیراخلاقی استعمال سے خودکار انداز میں پاس ورڈز کی چوری اور سیکیورٹی حصار توڑنے کے حملے تیزی سے کیے جا رہے ہیں۔
صرف مالیاتی ادارے ہی نہیں بلکہ تیل و گیس کی تنصیبات، بجلی کی پیداوار اور ترسیل (پاور گرڈز) کا نظام بھی سائبر خطرات کی زد میں ہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں صنعتی نظام، پانی کی فراہمی، ٹرانسپورٹ اور دیگر اہم پبلک سروسز کے متاثر ہونے کا شدید خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ تیسرے فریق کے سروس فراہم کنندگان اور غیر محفوظ ریموٹ رسائی سسٹمز اس وقت سب سے بڑے سیکیورٹی رسک بنے ہوئے ہیں۔
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے ملک کے تمام سرکاری اور نجی اداروں کو فوری طور پر اپنے سائبر سیکیورٹی کے انتظامات اور فائر والز کو انتہائی سخت کرنے کی سخت ترین ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ کسی بھی بڑے قومی نقصان سے بچا جا سکے۔
