اسلام آباد : وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ چوہدری سالک نے جو باتیں کیں یہ مستقبل کے لیے کوئی بساط بچھائی جارہی ہے، ایسے بیانات کا مقصد حکومت کو ڈس کریڈٹ کرنا ہے تاکہ نئے لوگوں کو پیش کیا جاسکے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں سیاسی حالات اور چوہدری سالک حسین کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے جو باتیں کیں یہ مستقبل کے لیے کوئی بساط بچھائی جارہی ہے، سمجھتا ہوں متبادل انتظام کے لیے جگہ بنائی جارہی ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات کا مقصد حکومت کو ڈس کریڈٹ کرنا ہے تاکہ نئےلوگوں کو پیش کیا جاسکے، کچھ سرمایہ کار بھی پچھلے کئی ماہ سے سرگرم ہیں، اقربا پروری کا عنصر بھی ہوسکتا ہے یہ ناممکن نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا اس کے پیچھے لوگ کار فرما ہیں اس سے زیادہ مجھ سے نہ پوچھیں، یہ میرا مشاہدہ ہے کوئی خبر نہیں دے رہا۔
انھوں نے انکشاف کیا گزشتہ 8 سے 10 ماہ سے کچھ سرمایہ دار اور سیاسی موقع پرست سرگرم ہیں جو خود کو سیاسی منظر نامے پر پوزیشن کر رہے ہیں، تقریباً 50 سال کی عمر کے افراد اور سرمایہ دار مل کر ایک نیا گروپ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ 2 سال بعد الیکشن ہوں گے۔
مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا “میرے اور مولانا کے درمیان کوئی فکس گیم نہیں ہو رہی، مولانا کے خلاف کیسز کھلے ہیں، اگر حکومت انہیں واپس لے لے تو پھر فکس گیم کی بات سچ ہو گی، تاہم میں نے کبھی ایسی فکسنگ نہیں کی۔”
انہوں نے کہا کہ کرپشن پورے ملک میں ہے، صرف پنجاب تک محدود نہیں، عام آدمی صبح سے شام تک اس کا سامنا کرتا ہے۔
چوہدری سالک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ چوہدری خاندان کا احترام ہے، تاہم ان کے موقف کے پیچھے عزیزداری يا اقربا پروری کا عنصر بھی ہو سکتا ہے۔

