تہران(6 نومبر 2026): ایران نے ایٹمی تنازع پر تجاویز قطر کے ذریعے امریکا کو بھجوادیں ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران نے قطر کے ذریعے امریکا کو ایٹمی تجویز ارسال کر دی ہے، تاہم ایک سینیئر ایرانی عہدیدار کے مطابق ان جوہری تجاویز پر بات چیت صرف اسی صورت میں ممکن ہو گی جب واشنگٹن تہران کے پیش کردہ سات مطالبات کو تسلیم کرے گا۔
ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی حکام اس وقت ان تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔دوسری جانب ثالثوں نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز ووٹنگ کے بعد جنگی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا تھا، جبکہ ایران نے بھی جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں وسیع تر جوابی کارروائی کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔
جمعرات کے روز روس کے دورے کے دوران ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے واضح کیا تھا کہ سفارت کاری کے محاذ پر انہوں نے امریکا کے سامنے سات شرائط رکھ دی ہیں، اور جب تک وہ ان ساتوں شرائط کو پورا نہیں کرتے، تب تک نہ تو آبنائے ہرمز کھولی جائے گی اور نہ ہی کسی قسم کے مذاکرات کا آغاز ہوگا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل رواں سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔
اس تنازع کے اثرات خطے کے دیگر حصوں تک بھی پھیل گئے تھے، جہاں لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ پھوٹ پڑی، جبکہ یمن میں حوثی ملیشیا نے بھی سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایران کے سات مطالبات
ہر محاذ پر جنگ کا مکمل اور فوری خاتمہ
مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی موجودگی میں کمی
امریکی بحری ناکہ بندی کا مکمل خاتمہ
ایران پر عائد تمام امریکی پابندیوں کا اٹھایا جانا
بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی
جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا ہرجانہ ادا کیا جانا

