نیشنل سائبرایمرجنسی رسپانس ٹیم نے ایمرجنگ اے آئی سائبرخطرات پر ایڈوائزری جاری کردی۔
کابینہ ڈویژن کے تحت نیشنل سائبرایمرجنسی رسپانس ٹیم کی جانب سے جاری کی گئی ایڈوائزری کے مطابق مالیاتی اداروں اوراہم انفراسٹرکچر پراے آئی کے ذریعےسائبرحملوں کاخطرہ بڑھ گیاہے،بینکوں کےکور بینکنگ سسٹمزاور ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارمز نشانے پرہوسکتےہیں،تیل و گیس کی تنصیبات، واٹر یوٹیلیٹیز اوربجلی کے نیٹ ورکس بھی خطرے میں ہیں،اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی پیداوار ،تقسیم، مینوفیکچرنگ اور ٹرانسپورٹ کے نظام بھی نشانے پرہیں۔
ایڈوائزری کے مطابق اے آئی، خودکار بوٹس، بوٹ نیٹس اورایجنٹک ٹولزسے حملوں کی رفتار اور پیچیدگی بڑھ رہی ہے،بینکوں کے اے پی آئیز،ادائیگی کے نظام اورصارفین کی ایپلی کیشنز پربھی حملوں کا خدشہ ہے، آن لائن خدمات میں خلل اور خودکار اسناد پرمبنی حملوں کابھی خدشہ ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق ظاہر کردہ اکاؤنٹ بیلنس میں رد و بدل سے صارفین میں خوف و ہراس پھیل سکتا ہے،تھرڈ پارٹی سروس فراہم کنندگان اور منسلک آئی او ٹی ڈیوائسز سے اہم انفراسٹرکچر کو خطرہ ہے،صنعتی کنٹرول سسٹمز میں کمزوریاں اور غیر محفوظ ریموٹ رسائی خطرہ بن گئی، ایڈوائزری میں یورپی سپر مارکیٹس کے ریفریجریشن اور فریزر سسٹمز پرحملوں کا حوالہ دیا گیا ہے،منسلک آپریشنل سسٹمزپر حملوں کے جسمانی اور تجارتی نتائج سامنے آئے،یورپی واقعات میں اے آئی کے ملوث ہونے کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی،خودکار لاگ ان کی کوششوں اور بار بار ناکام تصدیق پر نظر رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق اسناد کی بھر مار، غیر معمولی اے پی آئی ریکویسٹس،ایپلی کیشن کنفیگریشن میں تبدیلی، غیر معمولی لین دین کے پیٹرن ،کور بینکنگ ریکارڈ اور صارفین کے بیلنس میں فرق پر نظر رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق انٹرنیٹ سے منسلک آئی او ٹی / او ٹی اثاثوں کی نشاندہی کی جائے، براہ راست انٹرنیٹ رسائی اور تھرڈ پارٹی مینٹیننس کنکشنز کو محدود کیا جائے، او ٹی / آئی ٹی نیٹ ورک سیگمنٹیشن نافذ اور مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے، سیکیورٹی اپ ڈیٹس لگاتے رہیں اور بیک اپ آپریٹنگ طریقہ کار برقرار رکھا جائے، بوٹ سے چلنے والے اے آئی سائبر حملوں کے خلاف تیاری کا جائزہ لیا جائے۔
ایڈوائزری کے مطابق انسیڈنٹ ریسپانس، بزنس کنٹینیوٹی اور سیکیورٹی مانیٹرنگ بہتر بنائی جائے، سیکیورٹی لاگز برقرار اور مشتبہ واقعات رپورٹ کیے جائیں۔

