ایران جنگ میں کشیدگی کم ہونے کی توقعات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، برینٹ اور امریکی خام تیل کی قیمتیں رواں ہفتے تقریباً 12 فیصد تک گرنے کی راہ پر ہیں، تاہم مشرق وسطیٰ میں آئل ٹینکروں پر حملوں نے عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات برقرار رکھے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ری پبلکنز کو شکست کے بعد عالمی مارکیٹ میں یہ توقعات پیدا ہوئی ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ میں کشیدگی کم ہوسکتی ہے۔
ان توقعات کے نتیجے میں رواں ہفتے خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، حتیٰ کہ بدھ کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً 8 فیصد گر گئیں اور دو ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
تاہم جمعہ کو قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل کے جنوری کے سودے 1.29 ڈالر اضافے کے بعد 99.58 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 86 سینٹ اضافے کے بعد 91.38 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
پاکستان میں رواں ہفتے اب تک پیٹرول 25روپے 32پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 20روپے 71پیسے فی لیٹر سستا ہوچکا ہے۔
کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت عارضی طور پر 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے بھی تجاوز کرگئی۔
اس کے باوجود برینٹ خام تیل کے سودے رواں ہفتے تقریباً 12 فیصد کمی کی راہ پر ہیں، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی میں بھی 12.1 فیصد گراوٹ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب خلیج اور آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں پر حملوں نے عالمی منڈی میں نئی تشویش پیدا کردی ہے، بدھ اور جمعرات کو پیش آنے والے ان واقعات کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں۔

