برطانیہ میں فارمیسیز کی نمائندہ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث بعض اہم ادویات کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس سے ادویات کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
برٹش انڈیپنڈنٹ فارمیسیز ایسوسی ایشن کے مطابق کئی اہم ادویات کا ذخیرہ تشویشناک حد تک کم ہو چکا ہے،تنظیم کا کہنا ہے کہ برطانیہ اپنی تقریباً تین چوتھائی ادویات بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے نقل و حمل میں رکاوٹوں نے سپلائی چین پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔
تنظیم کے مطابق یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی بہت سی ادویات کی تیاری کے لیے بھی خام مال درکار ہوتا ہے، جو عموماً چین اور انڈیا سے حاصل کیا جاتا ہے،سپلائی میں رکاوٹوں کے سبب دواؤں کی دستیابی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
جن ادویات کی قلت کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے ان میں بلڈ پریشر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا، کینسر کے مریضوں کے لیے درد کش ادویات اور کولیسٹرول کم کرنے والی بعض ادویات شامل ہیں۔

