کراچی : پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے میر رضا کی ابتدائی پوسٹ مارٹم کی خامیوں کی نشاندہی کردی۔
تفصیلات کے مطابق میر رضا کیس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے قبر کشائی کی کارروائی سے متعلق پریزینٹیشن پیش کی۔
ڈاکٹر سمیہ نے میر رضا کے جسم پر موجود زخموں، گولی، تیزاب سے جلنے کے نشانات اور ابتدائی پوسٹ مارٹم کی خامیوں سے متعلق بتایا۔
ڈاکٹر سمیہ کا کہنا تھا کہ میر رضا کے سر پر چوٹ کا نشان موجود تھا جبکہ ناک کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی تھی، سر کے عقبی حصے پر سخت چیز لگنے کا نشان تھا اور یہ چوٹ زندگی میں لگی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ میر رضا کے چہرے کی ڈی کمپوزیشن جسم کے دیگر حصوں جیسی نہیں تھی، چہرے پر بعض مقامات پر ڈی کمپوزیشن موجود تھی جبکہ بعض جگہ نہیں تھی، ڈی کمپوزیشن کا مرحلہ پوری باڈی میں مختلف انداز سے ہوتا ہے۔
پولیس سرجن نے کہا کہ میر رضا کو لگنے والی گولی سے پسلیاں فریکچر ہوئیں جبکہ گولی نے پھیپھڑے اور دل کو بھی نقصان پہنچایا، سینے پر موجود نشان کو گولی داخل ہونے کا پوائنٹ قرار دینا غلط تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ پر تمام ارکان کے دستخط تھے اور رپورٹ میں صرف وہی معلومات شامل کی گئیں جن پر تمام ارکان کی متفقہ رائے تھی۔
ڈاکٹر سمیہ کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کی رپورٹ میں سنگین نقائص تھے، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں گن شاٹ ریزیڈیو کے نمونے حاصل نہیں کیے گئے جبکہ گولی کے زخم کے سائز کا اندراج بھی غلط تھا، گولی کے داخلے کا نشان عموماً چھوٹا اور صاف جبکہ باہر نکلنے کا زخم بڑا ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم کے نقائص سے متعلق 10 اگست کو ایڈیشنل آئی جی کو خط بھیجا گیا تھا۔
میر رضا کے جسم پر تیزاب سے جلنے کے نشانات سے متعلق ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ کیمیکل ایگزامینیشن رپورٹ میں تیزاب کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، ہاتھوں اور پیروں پر بھی کیمیکل سے جلنے کے نشانات تھے۔
ان کے مطابق ہائیڈروکلورک ایسڈ پولیسٹر کو کاربن میں تبدیل کرتا ہے اور میر رضا کی شرٹ پر کاربنائزیشن موجود تھی۔
جوڈیشل کمیشن نے سوال کیا کہ کیا پولیس نے یہ تصاویر نہیں دیکھی تھیں؟ ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ پولیس نے 3 بار سینے کے زخم کو گولی لگنے کا نشان قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں دل کا زخم گولی کی ٹراجیکٹری سے میچ نہیں کرتا تھا جبکہ ہاتھوں کی جلد خراب ہونے کو ڈی کمپوزیشن کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر سمیہ کے مطابق میر رضا کے جسم پر موجود زخموں کے تناظر میں کرائم سین پر خون کی مقدار کم تھی، انسانی جسم میں تقریباً 5 سے 6 لیٹر خون ہوتا ہے اور دل پر زخم کی صورت میں بہت زیادہ خون ملنا چاہیے تھا تاہم میر رضا کی پشت پر ڈی کمپوزیشن کا کوئی نشان نہیں تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر اسامہ نے اینستھیسیا کی ہاف لائف کی مدت غلط بیان کی تھی، دوا کی ہاف لائف زندگی کے ساتھ رک جاتی ہے، جبکہ لوکل اینستھیسیا براہ راست نس میں دیا جائے تو فوری اثر کرتا ہے۔
