کراچی : میر رضا کیس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ نے دھمکیاں ملنے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا مجھے کہا گیا کہ اگر خودکشی لکھ دیں تو ہلکا ہاتھ رکھا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق میر رضا کیس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے اپنی ملازمت، مبینہ دھمکیوں اور سیکیورٹی سے متعلق بھی اہم بیان دیا۔
ڈاکٹر سمیہ نے کہا کہ اس کیس کے لیے میں نے اپنی ملازمت اور کیریئر داؤ پر لگایا ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے ڈاکٹر سمیہ سے سوال کیا کہ ان کا باس کون ہے؟ ڈاکٹر سمیہ نے جواب دیا کہ سیکریٹری صحت ان کے باس ہیں۔
کمیشن نے سوال کیا کہ کیا ڈاکٹر اسامہ کے باس کے باس بھی سیکریٹری صحت ہوئے؟ تو ڈاکٹر نے بتایا کہ گزشتہ دو روز تک موٹر سائیکل پر ان کا پیچھا کیا گیا اور انہیں دھمکیاں بھی دی گئیں، مجھے کہا گیا کہ اگر خودکشی لکھ دیں تو ہلکا ہاتھ رکھا جائے گا۔
پولیس سرجن کا کہنا تھا کہ عوامی سطح پر بھی ان کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے لیے یہ ٹیسٹ کیس ہے، اگر دوبارہ کسی کیس میں ایسا کرنا پڑا تو میں پھر کروں گی۔
ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ میں نے اس معاملے پر این سی سی آئی اے میں شکایت بھی درج کرائی، زبانی طور پر پیغامات دیے گئے اور انہوں نے متعلقہ افراد کو صورتحال سے آگاہ کردیا تھا۔
Mir Raza Ali case – Latest News and Updates
سیکیورٹی سے متعلق سوال پر جسٹس عمر سیال نے ڈاکٹر سمیہ سے پوچھا کہ کیا انہیں سیکیورٹی کی ضرورت ہے؟ ڈاکٹر سمیہ نے جواب دیا کہ مجھے پولیس کی سیکیورٹی نہیں چاہیے۔
جسٹس عمر سیال نے ڈاکٹر سمیہ کو رینجرز کی سیکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی، تاہم انہوں نے سیکیورٹی لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنی فکر نہیں، فیملی کی فکر ہے۔
پولیس سرجن نے بتایا کہ میرے شوہر کا نام اور گھر کا نام سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا، میں نے عامر فاروقی سے بھی درخواست کی تھی کہ ان کی بات سن لی جائے۔
جوڈیشل کمیشن نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ کو خطوط لکھنے کا حکم دے دیا۔
ڈاکٹر سمیہ نے کہا کہ اگر کیس کے بعد ان کی نوکری برقرار رہی تو وہ پوسٹ مارٹم کی کارروائی کو کیمرے پر ریکارڈ کرنے کا انتظام کریں گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ میر رضا کے دونوں ہاتھوں پر گن شاٹ ریزیڈیو (GSR) بھی ملا تھا۔
ڈاکٹر اسامہ کے وائرل بیان سے متعلق ڈاکٹر سمیہ نے کہا کہ یہ بیان گردش کررہا ہے کہ ڈاکٹر سمیہ نے مجھے پھنسایا اور وہی مجھے نکالیں گی تو میں کمیشن کے پلیٹ فارم سے کہنا چاہتی ہیں کہ میں نے ایسا بیان نہیں دیا۔
