پاکستان شوبز انڈسٹری کی اداکارہ فریال گوہر نے اپنی 9 سالہ شادی شدہ زندگی کے دوران پیش آنے والے واقعات پر پہلی بار کھل کر بات کی ہے۔
پاکستانی ٹیلی ویژن کی سینیئر اور معروف اداکارہ فریال گوہر نے حال ہی میں ندا یاسر کے شو ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے سابق شوہر اور نامور اداکار جمال شاہ کے ساتھ گزرنے والی ازدواجی زندگی کے تلخ حقائق اور گھریلو تشدد کے ہولناک پہلوؤں سے پردہ اٹھایا۔
پروگرام کے دوران گھریلو تشدد پر بات کرتے ہوئے فریال گوہر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تقریباً اسی فیصد خواتین ازدواجی زندگی میں تشدد کا سامنا کر رہی ہیں، اور یہ مسئلہ صرف عام خواتین تک محدود نہیں بلکہ پڑھی لکھی اور خودمختار خواتین بھی اس کا شکار ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ خود بھی شادی کے نو سالہ طویل عرصے تک اس ظلم اور تشدد کو برداشت کرتی رہیں، حالانکہ وہ مالی یا خاندانی طور پر مجبور نہیں تھیں، لیکن معاشرتی دباؤ اور خاندانی تعصبات انسان کو ایسے حالات میں جکڑ لیتے ہیں۔
یہ پڑھیں: شادی سے پہلے ’اسکرٹ‘ پہنتی تھی شوہر کی محبت میں برقع بھی پہنا، فریال گوہر
فریال گوہر نے جذباتی انداز میں بتایا کہ جب ان کی شادی ہوئی تو وہ محض تئیس سال کی تھیں اور یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا، کیونکہ ان کا خاندان اس بات پر خوش تھا کہ لڑکا ایک سید خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن بعد میں ان کے اپنے خاندان نے بھی یہ اعتراف کیا کہ جو شخص اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھاتا ہے وہ کبھی اچھا انسان یا سید نہیں ہو سکتا۔
اپنے اوپر ہونے والے مظلومانہ تشدد کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہیں مبینہ طور پر چمڑے کے بیلٹوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا، جس کے باعث ان کے گردے متاثر ہوئے، کئی بار آپریشنز کروانا پڑے اور ان کے حمل ضائع ہو گئے۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں شدید جسمانی چوٹوں اور زخموں کی وجہ سے اپنی کلاسیں تک چھوڑنا پڑتی تھیں اور وہ اپنے جسم کے نیل چھپانے کے لیے میک اپ کا سہارا لیتی تھیں۔
اداکارہ نے مزید بتایا کہ تشدد کے علاوہ ان پر سخت پابندیاں بھی عائد تھیں۔ انہیں گھر سے باہر اکیلے چلنے پھرنے یا سیر کے لیے جانے کی اجازت نہیں تھی، اور اگر انہیں کہیں سفر کرنا پڑتا تو وہ رکشے میں بیٹھتی تھیں جسے بھی پردے سے ڈھانپ دیا جاتا تاکہ کوئی باہر سے انہیں نہ دیکھ سکے۔ اس کے علاوہ انہیں اپنی ساس کا شٹل کا برقع پہننے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
گفتگو کے آخر میں فریال گوہر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ بہتر زندگی کی مستحق ہیں، اور ایسے ظالمانہ حالات سے باہر نکلنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے معاشرے میں مردوں کی تربیت اور رویوں کو بدلنے پر بھی زور دیا۔
