واشنگٹن: سابق امریکی سفیر جوئی ہُڈ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے ساتھ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے رہی ہے، امریکی اقتصادی پابندیاں ایران کو اچانک اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کریں گی۔
عرب خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک انٹرویو کے دوران سابق امریکی سفیر جوئی ہُڈ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے فوجی حملوں کی حدود کو واضح طور پر سمجھ لیا ہے لیکن ایران کے رویے میں تبدیلی کے لیے صرف اقتصادی پابندیاں ناکافی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ 2015ء کے جوہری معاہدے کے لیے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں تقریباً 2 سال کی پابندیوں کا وقت چاہئے۔
امریکی سفیر کے مطابق موجودہ صورتِحال میں چین اور روس مکمل طور پر امریکا کے مؤقف کے ساتھ نہیں ہیں جس کے باعث ایران پر دباؤ ڈالنے کی امریکی حکمتِ عملی کا پہلا جیسا نتیجہ نہیں آسکتا۔
جنگ میں ایک ہزار اسرائیلی فوجی ہلاک، ہزاروں زخمی ہوئے، ابوالفضل شکارچی
انہوں نے کہا کہ ایران یہ بھی جانتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد ایرانی حکومت کی تبدیلی ہے، اس لیے موجودہ حالات میں ایران کا امریکا کے ساتھ آسانی سے مذاکرات کی جانب آنا ممکن نظر نہیں آتا۔
