• Home  
  • لاہور ہائیکورٹ کا خلع، حق مہر، نان نفقہ اور کمسن بچے کے اخراجات سے متعلق اہم فیصلہ
- پاکستان

لاہور ہائیکورٹ کا خلع، حق مہر، نان نفقہ اور کمسن بچے کے اخراجات سے متعلق اہم فیصلہ

 لاہور ہائیکورٹ نے خلع، حق مہر، نان نفقہ اور کمسن بچے کے اخراجات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے بیوی کو خلع کے عوض 11 تولے سونا یا اس کی قیمت شوہر کو واپس کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ شوہر 11 تولے سونا یا اس کی قیمت […]

لاہور ہائیکورٹ کا خلع، حق مہر، نان نفقہ اور کمسن بچے کے اخراجات سے متعلق اہم فیصلہ

 لاہور ہائیکورٹ نے خلع، حق مہر، نان نفقہ اور کمسن بچے کے اخراجات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے بیوی کو خلع کے عوض 11 تولے سونا یا اس کی قیمت شوہر کو واپس کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ شوہر 11 تولے سونا یا اس کی قیمت بطور بدلِ خلع واپس لینے کا حقدار نہیں۔

جسٹس راحیل کامران نے ڈاکٹر رخسانہ کوثر سمیت دیگر کی درخواستوں پر 18 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے کے وقت پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان بھی عدالت میں موجود تھے،عدالت نے قرار دیا کہ بیوی کے والد نے گھر کی خریداری اور 11 تولے سونا خریدنے کے لیے رقم فراہم کی تھی۔

شوہر 11 تولے سونے کی خریداری کے لیے اپنی مالی استطاعت ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے شوہر کو 11 تولے سونا یا اس کی قیمت بطور بدلِ خلع واپس لینے کا حق نہیں دیا جاسکتا۔لاہور ہائیکورٹ نے 11 تولے سونے سے متعلق ماتحت عدالتوں کے فیصلے میں ترمیم کرتے ہوئے خلع کے عوض سونا واپس کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔فیصلے میں عدالت نے بیوی کے نام منتقل کیے گئے گھر سے متعلق بھی اہم آبزرویشنز دیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ بیوی کے والد کی

جانب سے گھر کی خریداری کے لیے رقم فراہم کرنے کے شواہد ریکارڈ پر موجود ہیں اور انہیں تسلیم کیا جاتا ہے۔ گھر کی خریداری کے لیے رقم فراہم کرنے کے شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ گھر شوہر نے بطور حق مہر فراہم کیا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ بیوی کے نام منتقل گھر کو شوہر کی جانب سے حق مہر کے طور پر فراہم کردہ ثابت نہیں کیا جاسکا، لہٰذا شوہر اس گھر پر قانونی دعویٰ نہیں کرسکتا۔ بیوی کے والد کو گھر کا قبضہ لینے کا حق حاصل ہے۔نان نفقہ سے متعلق عدالت نے قرار دیا کہ کمسن بچے کی کفالت والد کی قانونی، اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری ہے۔

مالی طور پر مستحکم والد کی جانب سے بچے کے اخراجات کم کرنے کے لیے اپنی آمدن چھپانا قابل قبول نہیں۔فیصلے کے مطابق شوہر نے اپنی مکمل تنخواہ کا ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا، جس پر عدالت نے اس کے خلاف منفی قرینہ اخذ کیا۔ عدالت نے بیوی اور کمسن بچے کے نان نفقہ سے متعلق ماتحت عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے زچگی کے اخراجات سے متعلق بیوی کی 63 ہزار روپے کی درخواست بھی مسترد کردی۔لاہور ہائیکورٹ نے شوہر کی تینوں درخواستیں خارج کردیں جبکہ بیوی کی درخواست جزوی طور پر منظور کرلی۔ عدالت نے واضح کیا کہ خلع کے معاملے میں حق مہر یا دیگر مالی معاملات کا تعین محض دعوے کی بنیاد پر نہیں بلکہ دستیاب شواہد اور فریقین کی مالی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.