
ترجمان جماعت اسلامی نے رانا ثنااللہ کو اپنی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2018 میں نوازشریف کی واپسی پر شہبازشریف، رانا ثنا صرف 150 افراد جمع کر سکے تھے۔
ترجمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے پٹرولیم لیوی کیخلاف 3بڑے شہروں میں بیک وقت دھرنےجاری ہیں جن میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں افراد شریک ہو رہے ہیں، جماعت اسلامی کا احتجاج کسی شخصیت کےنہیں پٹرولیم لیوی اور حکومتی شاہ خرچیوں کیخلاف ہے۔
ترجمان نے کہا کہ حکومتی شاہ خرچیاں مزید نہیں چلیں گی، حکومت تمسخر اڑانے کے بجائے پٹرولیم لیوی ختم کرے اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا اور عوامی دباؤمیں اضافہ کیاجائےگا۔
