چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے زونل آفس 501 کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پروگرام کے تحت مستحق خواتین کو ادائیگیوں کے نئے ڈیجیٹل نظام کے حوالے سے بریفنگ دی۔
سینیٹر روبینہ خالد کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ادائیگی کا نظام مرحلہ وار ڈیجیٹل والٹس پر منتقل کیا جارہا ہے۔ دنیا تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی جانب بڑھ رہی ہے اور بی آئی ایس پی میں بھی ڈیجیٹل ادائیگی کا طریقہ متعارف کرایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت مستحق خواتین کو رقم وصول کرنے کے لیے دور دراز علاقوں سے آنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ رقم منتقل ہونے پر انہیں موبائل فون کے ذریعے پیغام کے ذریعے اطلاع دی جائے گی۔
روبینہ خالد کے مطابق خواتین مختلف بینکوں میں موجود اپنے اکاؤنٹس کے ذریعے کسی بھی بینک سے رقم وصول کرسکیں گی، جبکہ اب ادائیگی حاصل کرنے کے لیے ہفتے کے ساتوں دن سہولت دستیاب ہوگی۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے بتایا کہ ایک ہی مرحلے میں 90 لاکھ خواتین کے اکاؤنٹس بنائے گئے اور انہیں ادائیگیاں بھی کی گئیں۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ادائیگی سے مستحق خواتین کو ماضی میں پیش آنے والی مشکلات کا خاتمہ ہوگا اور انہیں زیادہ باعزت اور آسان طریقے سے مالی معاونت مل سکے گی۔
سینیٹر روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کا خواب تھا کہ مستحق خواتین کو باعزت طریقے سے مالی معاونت فراہم کی جائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ 20 لاکھ بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

