پشاور : خیبرپختونخوا میں بارش کا پانی محفوظ بنانے کا بڑا منصوبہ تیار کرلیا گیا ، جس کے تحت گھروں کی چھتوں، سڑکوں، صحن اور کھلے مقامات سے بارشی پانی جمع کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی کے تشویشناک انکشاف کے بعد صوبائی حکومت نے بارشی پانی کو محفوظ بنانے اور زیرِ زمین پہنچانے کا جدید منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا کہ صوبے میں سالانہ 50 سے 55 ملین ایکڑ فٹ زیرِ زمین پانی پمپ کیا جا رہا ہے، جبکہ قدرتی طور پر صرف 40 سے 45 ملین ایکڑ فٹ پانی ہی واپس زیرِ زمین پہنچ پاتا ہے۔
پانی کے اخراج اور ری چارج کے اس واضح فرق اور ٹیوب ویلز پر بڑھتے انحصار کو آبی ذخائر کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق مون سون کے دوران کے پی میں اوسطاً 260.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، لیکن کوئی مناسب نظام نہ ہونے کے باعث بارشی پانی شہری سیلاب کی صورت میں ضائع ہو جاتا ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے نیا اربان ری چارج سسٹم لانے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت گھروں کی چھتوں، سڑکوں، صحن اور کھلے مقامات سے بارشی پانی جمع کیا جائے گا اور جمع شدہ پانی کو مخصوص چینلز اور بائیو سوئلز کے ذریعے آگے منتقل کیا جائے گا۔
زیرِ زمین شامل کرنے سے قبل پانی کو ریت اور چارکول پر مشتمل خاص فلٹریشن سسٹم سے گزارا جائے گا تاکہ آلائشیں دور ہو سکیں جبکہ پاک اور فلٹر شدہ پانی کو ری چارج ویلز کے ذریعے براہِ راست زیرِ زمین آبی ذخائر کا حصہ بنایا جائے گا۔

