• Home  
  • عوام سے بجلی کے بلوں میں اربوں روپے کی ٹیکس وصولی کا انکشاف
- پاکستان

عوام سے بجلی کے بلوں میں اربوں روپے کی ٹیکس وصولی کا انکشاف

اسلام آباد: سینیٹ کمیٹی میں عوام سے بجلی کے بلوں میں اربوں روپے وصولی کا انکشاف سامنے آیا، بجلی کے بلوں پر مجموعی طور پر 476 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں بجلی کے […]

عوام سے بجلی کے بلوں میں اربوں روپے کی ٹیکس وصولی کا انکشاف

اسلام آباد: سینیٹ کمیٹی میں عوام سے بجلی کے بلوں میں اربوں روپے وصولی کا انکشاف سامنے آیا، بجلی کے بلوں پر مجموعی طور پر 476 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں بجلی کے بلوں پر عائد ٹیکسز اور عوام پر بڑھتے مالی بوجھ کا معاملہ زیر بحث آیا۔

اجلاس میں سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ عوام سے بجلی کے بلوں میں 620 ارب روپے وصول کرنا جبر کے مترادف ہے۔

سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ بجلی کے بلوں پر ٹیکس در ٹیکس کے باعث فی یونٹ قیمت 85 روپے تک پہنچ رہی ہے، جبکہ بجلی کے بھاری بلوں نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔

اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ کے بینک اکاؤنٹس منجمد ہونے اور بینکنگ مسائل پر بھی گفتگو کی گئی۔

چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے بتایا کہ گھریلو صارفین کے بجلی کے بلوں پر سیلز ٹیکس عائد ہے، جبکہ دکانداروں سے بجلی کے بلوں پر ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، بجلی ایک پراڈکٹ ہے اور دنیا بھر میں اس کے استعمال پر سیلز ٹیکس لیا جاتا ہے۔

ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ بجلی کے بلوں پر مجموعی طور پر 476 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا گیا، جس میں 351 ارب روپے سیلز ٹیکس جبکہ کمرشل میٹرز سے 144 ارب روپے ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا گیا۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہر سال 400 سے 500 ارب روپے تک ایڈوانس انکم ٹیکس ایسا جمع ہوتا ہے جو واپس نہیں لیا جاتا، تاہم اگر ٹیکس گوشوارہ جمع کرایا جائے تو یہ رقم واپس حاصل کی جا سکتی ہے۔

اجلاس میں بینک اکاؤنٹس سے متعلق مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ بعض بینک برانچیں سیاستدانوں اور ان کے اہلخانہ کے اکاؤنٹس منجمد کر دیتی ہیں، جبکہ بینکوں کے پاس واضح ہدایات موجود نہیں ہوتیں۔

رکن قومی اسمبلی معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ بینک اراکین پارلیمنٹ کو غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کی طرح ٹریٹ کرتے ہیں، اس مسئلے کے حل کے لیے واضح قوانین اور یکساں دستاویزات کا نظام ہونا چاہیے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے اجلاس کو بتایا کہ بینکوں کو شکایات فوری حل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں اور ہر بینک میں ایک افسر مقرر کیا گیا ہے جو ایسے معاملات دیکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں اسٹیٹ بینک کے افسر کی تعیناتی کی تجویز پر بھی غور کیا جائے گا۔

About Us

Lorem ipsum dol consectetur adipiscing neque any adipiscing the ni consectetur the a any adipiscing.

Email Us: infouemail@gmail.com

Contact: +5-784-8894-678

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.