لاہور: صوبائی دارلحکومت لاہور میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد خطرناک صورتحال اختیار کرگئی ہے، جس کے بعد شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرگئی۔
کتوں کے حملوں اور ان کے کاٹنے سے اب تک دو ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوچکی ہیں، جس کے بعد شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
مختلف علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گلی محلوں اور سڑکوں پر آوارہ کتوں کی بہتات کے باعث بچوں، خواتین اور بزرگوں کا گھروں سے نکلنا محال ہو چکا ہے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ ہم نے متعلقہ انتظامیہ کو متعدد بار شکایات درج کروائیں، لیکن اب تک کتے مار یا کتے پکڑ مہم کے حوالے سے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، بلدیاتی ادارے شہریوں کی جانیں بچانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے۔
دوسری جانب ماہرینِ صحت نے آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق کتے کے کاٹنے کو معمولی زخم سمجھ کر نظر انداز کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، متاثرہ شخص کو چاہیے کہ وہ کسی بھی تاخیر کے بغیر فوری طور پر قریبی ہسپتال پہنچے۔
کتے کے کاٹنے کے بعد بروقت اینٹی ریبیز ویکسین لگوانا جان بچانے کے لیے انتہائی ضروری ہے، ویکسینیشن میں معمولی سی تاخیر بھی لاعلاج اور جان لیوا بیماری ‘ریبیز’ (سگ گزیدگی) کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کے اس سنگین مسئلے کا حل محض عارضی یا ہنگامی کارروائیاں نہیں ہیں۔ حکومت کو اس کے مستقل حل کے لیے ایک جامع پالیسی بنانی ہوگی جس میں کتوں کی ویکسینیشن، ان کی آبادی پر کنٹرول (نیس بندی) اور عوامی آگاہی مہم شامل ہو۔
ماہرین نے شہریوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری ہسپتال سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

