کراچی: نیا ناظم آباد سے 2سال کے بچے کے اغوا میں والد کا دوست مرکزی ملزم نکلا۔
پولیس نے 2سالہ بچے کے اغوا میں ملوث مرکزی ملزم سمیت 3ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ مرکزی ملزم دوران تلاش اہلخانہ کے ساتھ رہ کر خود کو بےگناہ ظاہر کرتا رہا۔
ملزمان نے بچے کے اہلخانہ سے 50 لاکھ روپے تاوان طلب کیا تھا اور مرکزی ملزم نے واردات کی منصوبہ بندی سالے اور دوست کے ساتھ کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اغوا میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل جعلی نمبر پلیٹ تھی جب کہ ہیلمٹ اور کپڑے برآمد کر لیے گئے ہیں بچے کو اغوا کے بعد گھارو منتقل کیا گیا تھا۔
اہم ملزم
کراچی میں نیا ناظم آباد سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والے 2 سالہ معصوم بچے اذان کے معاملے پر حیدرآباد رینج ٹھٹھہ پولیس نے ایک خفیہ کارروائی کے دوران مبینہ اغوا میں ملوث ایک اہم ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ ٹھٹھہ پولیس نے مصدقہ اطلاعات پر علاقے کے گاؤں سلطان آباد تھیم گوٹھ میں ایک بڑا سرچ آپریشن کیا، اس آپریشن کے نتیجے میں پولیس نے ایک مشکوک شخص کو پکڑلیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ زیرِ حراست شخص کا تعلق براہِ راست کراچی سے اغوا ہونے والے بچے اذان کے کیس سے ہے۔
اغوا
خیال رہے کراچی کے علاقے منگھوپیر سے مبینہ اغواء اذان کی بازیابی پر والدین اورپولیس کے متضاد بیانات نے معاملہ مزید مشکوک بنادیا ہے جبکہ کئی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں کہ بچہ اغواکیا گیا یا لاپتہ ہوا؟ پولیس نے بازیاب کرایا یا اہل خانہ کو ملا؟؟
ذرائع کا کہنا ہے والدین سے پچاس لاکھ تاوان کا مطالبہ کیا گیا تو ملزمان نے بچہ کیوں چھوڑا؟ پولیس نے کریڈٹ لینے کی جلد بازی کیوں کی؟ سی آئی اے حکام بھی کہتے ہیں اگرتاوان کی کال آئی تھی تو ایک گھنٹے میں ہی بچہ کیسے مل گیا۔
مغوی اذان کی والدہ نے پولیس کے تمام دعووں کی قلعی کھولتے ہوئے بتایا تھا کہ نہ تو سوسائٹی انتظامیہ نے ان کا ساتھ دیا اور نہ ہی پولیس نے کوئی مدد کی، بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملزمان دباؤ میں آ گئے اور انہوں نے بچے کو خود ہی چھوڑ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے کسی نامعلوم سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پوسٹ اپلوڈ کروائی کہ “ایک بچہ سڑک پر چلتا اور روتا ہوا ملا ہے، جس کا ہے وہ آکر لے جائے”، یہ پوسٹ صبح 9 بجےکی گئی، جب ہم بتائے گئے مقام پر پہنچیں تو وہاں کےگھر والوں نے 5 سے 6 الگ بیانات دیئے۔

