کراچی : منشیات نیٹ ورک کی سربراہ ‘انمول عرف پنکی’ نے جیل میں اعترافِ جرم کرلیا ، جس کے بعد پولیس نے عدالت میں چالان جمع کرادیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کی انسدادِ منشیات عدالت میں سال 2018 سے مفرور خطرناک خاتون ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف درج مقدمے میں بڑی پیشرفت سامنے آئی۔
پولیس نے کیس کا ضمنی چالان ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں جمع کرا دیا ہے، جس میں ملزمہ کے جرائم کے نیٹ ورک اور اس کے اعترافِ جرم کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔
چالان کے متن میں کہا گیا کہ ملزمہ انمول عرف پنکی سال 2018 سے منشیات برآمدگی کے کیس میں مفرور چل رہی تھی، حال ہی میں تفتیشی حکام کو پتہ چلا کہ روپوش ملزمہ کراچی کے علاقے بغدادی کے ایک قتل کیس میں پہلے ہی گرفتار ہو کر جیل میں بند ہے۔
جس پر پولیس نے عدالت سے خصوصی اجازت حاصل کرنے کے بعد جیل جا کر ملزمہ سے باقاعدہ تفتیشکی جس کے دوران اس نے چونکا دینے والے انکشافات کیے۔
پولیس کے مطابق چالان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمہ نے دورانِ تفتیش مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ وہ منشیات کے ایک نیٹ ورک کی سربراہ ہے، 18 نومبر 2018 کو میسر علی، ناصر علی اور عین اللہ منشیات لے جا رہے تھے، جنہیں پولیس نے اختر کالونی، ڈیفنس کے علاقے سے گرفتار کیا تھا۔
ولیس نے جب ملزمہ انمول کا کرمنل ریکارڈ چیک کیا تو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں سنگین جرائم اور منشیات کے 21 مقدمات درج ہیں۔
چالان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسی کیس میں نامزد ملزمہ کا سگا بھائی ناصر رواں سال 26 فروری 2026 کو عدالت سے بری ہو چکا ہے۔
سی ٹی ڈی تھانے میں سال 2018 میں درج کیے گئے اس مقدمے کے ضمنی چالان میں پولیس نے گینگ کے مزید دو ارکان میسر علی اور عین اللہ کو بدستور مفرور قرار دیا ہے، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ملزمہ کے اعترافِ جرم کے بعد عدالت نے کیس کی مزید سماعت اگلی تاریخ تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

