اسلام آباد : سینیٹ ذیلی کمیٹی کا بجلی کے غیرمنصفانہ بلوں پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے تقسیم کار کمپنیوں کو بلوں کی فوری درستگی کی ہدایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی اقتصادی امور کی ذیلی کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی کے غیر منصفانہ اور اضافی بلوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو بلوں کی فوری درستگی کی ہدایت کر دی ہے۔
کمیٹی کے اجلاس میں اراکینِ پارلیمنٹ نے اپنے اور عوام کو آنے والے بھاری بلوں کے لرزہ خیز اعداد و شمار سامنے رکھ دیے۔
اجلاس کے دوران سینیٹر وقار مہدی نےاپنا ذاتی تجربہ شیئر کیا اور بتایا “میرا اپنا صرف 202 یونٹ کا بجلی کا بل 18 ہزار 500 روپے آیا ہے، جس پر کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
اسی معاملے پر سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد جیسے شہر میں 2 ہزار یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو ڈھائی لاکھ روپے تک کے بل بھیجے گئے ہیں۔
انہوں نے حکام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال کیا کہ کمپنیوں کی جانب سے غلطی کا اعتراف تو کر لیا گیا، لیکن اب عوام کو نچوڑنے والی اس سنگین غلطی کا اصل ذمہ دار کون ہے؟
پاور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ جامشرو میں بجلی کا ایک اہم منصوبہ 4 سال کی طویل تاخیر کے بعد اب جا کر مکمل کر لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ ایک چینی کمپنی کی جانب سے ٹیکسز نہ دینے کے باعث 4 سال تک التوا کا شکار رہا، جسے بعد میں حکومت کی جانب سے رقم جاری کیے جانے کے بعد دوبارہ شروع کر کے مکمل کیا گیا۔
اجلاس میں دارالحکومت کی ترقی پر بات کرتے ہوئے سینیٹر وقار مہدی نے بتایا کہ آذربائیجان کے ساتھ ‘ٹوئن سسٹر سٹیز’ کا معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کو اسلام آباد کو خوبصورت بنانے کے لیے خصوصی گرانٹ ملی تھی۔
اس پر کمیٹی کی رکن روبینہ خالد نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے وزارتِ داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ اس تمام گرانٹ کو اسلام آباد کی خوبصورتی اور وہاں بڑے پیمانے پر درخت لگانے پر خرچ کرے۔

