• Home  
  • حکومت کا مینول سرنجز سے متعلق بڑا فیصلہ
- صحت

حکومت کا مینول سرنجز سے متعلق بڑا فیصلہ

اسلام آباد(18 جولائی 2026): وفاقی حکومت نے صحت عامہ کے تحفظ کے لیے ملک بھر میں مینول سرنجز پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے اس حوالے سے باقاعدہ حکم نامہ جاری کرتے ہوئے اسے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، تمام صوبائی حکومتوں، سرنج ساز کمپنیوں اور امپورٹرز کو […]

حکومت کا مینول سرنجز سے متعلق بڑا فیصلہ

اسلام آباد(18 جولائی 2026): وفاقی حکومت نے صحت عامہ کے تحفظ کے لیے ملک بھر میں مینول سرنجز پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے اس حوالے سے باقاعدہ حکم نامہ جاری کرتے ہوئے اسے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، تمام صوبائی حکومتوں، سرنج ساز کمپنیوں اور امپورٹرز کو بھجوا دیا ہے۔

حکم نامے کے مطابق یکم جنوری 2027 سے 10 سی سی سے کم حجم کی تمام مینول سرنجز کی تیاری، درآمد (امپورٹ) اور فروخت پر مکمل پابندی ہوگی اور مارکیٹ میں صرف آٹو لاک سرنجز ہی فروخت ہو سکیں گی۔

ڈریپ نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق انسولین سرنجز پر نہیں ہوگا۔ یاد رہے کہ ملک میں 2 اور 5 سی سی کی مینول سرنجز کے استعمال پر پہلے سے ہی پابندی عائد ہے۔

نئے احکامات کے تحت سرکاری اور نجی اسپتالوں کے لیے 10 سی سی مینول سرنج استعمال کرنے کی چھوٹ بھی ختم کر دی گئی ہے، جبکہ مخصوص حجم کی مینول سرنجز پر پابندی کا یکم جولائی کا پرانا نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ڈریپ نے تمام کمپنیوں کو پابند کیا ہے کہ وہ 31 دسمبر تک اپنی مینول سرنجز کو ‘سیفٹی انجینئرڈ ری یوز پریونشن’ (آر یو پی) سرنجز میں تبدیل کریں، جبکہ امپورٹرز اور کمپنیوں کو آٹو لاک سرنج سازی، درآمد اور سیل کے لیے ڈریپ سے باقاعدہ اجازت لینا ہوگی۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا کہنا ہے کہ روایتی سرنجز پر پابندی اور آٹو لاک ٹیکنالوجی پر منتقلی کا فیصلہ صحت عامہ کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھا، جس کا بنیادی مقصد آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کو روکنا ہے۔

ڈریپ نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر سخت عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

About Us

Lorem ipsum dol consectetur adipiscing neque any adipiscing the ni consectetur the a any adipiscing.

Email Us: infouemail@gmail.com

Contact: +5-784-8894-678

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.