دبئی(17 جولائی 2026): محمد نواز نے آئی سی سی اینٹی ڈوپنگ کوڈ کی خلاف ورزی کا اعتراف کر لیا ہے، جس کے بعد ان پر تین ماہ کی پابندی عائد کی گئی ہے۔
پاکستانی اسپن آل راؤنڈر محمد نواز نے آئی سی سی اینٹی ڈوپنگ کوڈ کی خلاف ورزی کا اعتراف کر لیا ہے، جس کے بعد ان پر تین ماہ کی پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم ری ہیب پروگرام مکمل کرنے پر اس پابندی کو کم کر کے ایک ماہ کر دیا جائے گا۔
32 سالہ محمد نواز کا ڈوپ ٹیسٹ رواں سال 7 فروری کو سری لنکا کے شہر کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گئے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے میچ کے بعد لیا گیا تھا، جس میں ممنوعہ مادے کے استعمال کی تصدیق ہوئی تھی۔
محمد نواز نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے یہ مادہ کھیل کے میدان سے باہر اور غیر مسابقتی ماحول میں استعمال کیا تھا، اور اس کا کھیل کی کارکردگی کو بڑھانے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
آئی سی سی کے مطابق محمد نواز پر تین ماہ کی پابندی کا اطلاق یکم مئی 2026 سے کیا گیا ہے، جب انہوں نے خود رضاکارانہ طور پر معطلی کا آغاز کیا تھا۔ اب اینٹی ڈوپنگ قوانین کے تحت سزا تسلیم کرنے اور بحالی پروگرام کا حصہ بننے پر ان کی عبوری معطلی کو ڈھائی ماہ کی مدت پوری کرنے کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔
چونکہ وہ ڈھائی ماہ کی معطلی پہلے ہی گزار چکے ہیں اس لیے پروگرام مکمل ہونے کی صورت میں انہیں مزید کسی پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا تاہم آئی سی سی نے 7 فروری سے یکم مئی 2026 تک ان کے تمام کرکٹ ریکارڈز بھی کالعدم قرار دے دیے ہیں۔

