• Home  
  • سابق بنگلا دیشی صدر ضیا الرحمان کے قتل میں مفرور سابق فوجی افسر ساڑھے چار دہائیوں بعد گرفتار
- دنیا

سابق بنگلا دیشی صدر ضیا الرحمان کے قتل میں مفرور سابق فوجی افسر ساڑھے چار دہائیوں بعد گرفتار

ڈھاکا(17 جولائی 2026): بنگلا دیشی پولیس نے ساڑھے چار دہائی قبل سابق صدر ضیاء الرحمان کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں مطلوب ایک سابق فوجی افسر کو گرفتار کر لیا ہے۔ سابق صدر ضیاء الرحمان کو مئی 1981 میں چٹاگانگ میں ایک فوجی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ڈھاکا کے چیف […]

سابق بنگلا دیشی صدر ضیا الرحمان کے قتل میں مفرور سابق فوجی افسر ساڑھے چار دہائیوں بعد گرفتار

ڈھاکا(17 جولائی 2026): بنگلا دیشی پولیس نے ساڑھے چار دہائی قبل سابق صدر ضیاء الرحمان کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں مطلوب ایک سابق فوجی افسر کو گرفتار کر لیا ہے۔

سابق صدر ضیاء الرحمان کو مئی 1981 میں چٹاگانگ میں ایک فوجی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ڈھاکا کے چیف ڈیٹیکٹو پولیس محمد شفیق الاسلام نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم مظفر حسین سابق صدر کے قتل کے بعد سے مسلسل مفرور تھا۔

کے چیف ڈیٹیکٹو پولیس محمد شفیق الاسلام نے بتایا کہ اسے ڈھاکا ایئرپورٹ پر اترتے ہی حراست میں لے لیا گیا، جہاں ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے قتل میں اپنے ملوث ہونے اور کردار کا اعتراف کر لیا ہے۔

حکومتِ بنگلا دیش نے مظفر حسین کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے پر دو ہزار امریکی ڈالر کے انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔

واضح رہے کہ ضیاء الرحمان کے قتل کے کیس میں مئی 1981 میں ایک فوجی عدالت نے مجموعی طور پر 18 فوجی افسران کو سزائیں سنائی تھیں، جن میں سے 13 افسران کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ مقتول سابق صدر ضیاء الرحمان کے بیٹے طارق رحمان اس وقت بنگلہ دیش کے وزیراعظم ہیں۔

About Us

Lorem ipsum dol consectetur adipiscing neque any adipiscing the ni consectetur the a any adipiscing.

Email Us: infouemail@gmail.com

Contact: +5-784-8894-678

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.