اسلام آباد : آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے سبب قطر سے سپلائی متاثر ہونے کے باعث پاکستان نے اضافی ایل این جی درآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور قطر سے ایل این جی سپلائی متاثر ہونے کے خدشہ ہے ، جس کے پیشِ نظر پاکستان نےاضافی ایل این جی درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت جولائی کے دوران اسپاٹ مارکیٹ سے کم از کم ایک اضافی ایل این جی کارگو خریدے گی، جبکہ اگست کے لیے مزید چھ ایل این جی کارگو حاصل کرنے کی تیاری بھی جاری ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قطر پاکستان کو طویل المدتی معاہدے کے تحت ایل این جی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، تاہم آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث ممکنہ سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کے پیشِ نظر حکومت متبادل انتظامات کر رہی ہے۔
اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کی خریداری پاکستان کے لیے نسبتاً مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے جولائی کے لیے رواں ہفتے اسپاٹ مارکیٹ سے ایک ایل این جی کارگو 20.69 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر خریدا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق اضافی ایل این جی کی درآمد سے ملک میں گیس کی فراہمی کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس سے درآمدی لاگت میں اضافہ ہونے کا بھی امکان ہے۔

