(7 نومبر 2026): چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ عمران خان تک رسائی ہمارے بنیادی مطالبات میں شامل ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا، پی ٹی آئی نے ہمیشہ سیاسی اختلاف کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کی، ہمارے لوگ شہید ہوئے لیکن پھر بھی مذاکرات کا مطالبہ کیا، ہم نے ہمیشہ کہا سیاسی مسائل بات چیت سے حل کیے جائیں۔
بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے ذاتی معالج اور اہلخانہ کو ان تک رسائی دی جائے، ہمارے بنیادی مطالبات بھی پورے نہیں کیے جا رہے، ہمارے حق میں عدالتوں کے فیصلوں پر بھی عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا 18 اگست کا فیصلہ آج بھی عمل درآمد کا منتظر ہے، ہمیں سیاسی طور پر تنہا کرنے سے ملک اور جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ، اسپیکر، جنید اکبر اور ڈاکٹر امجد حبس بے جا میں ہیں، جنید اکبر اور ڈاکٹر امجد کے بارے میں آج تک معلوم نہیں، سیاسی رہنماؤں کو حبس بے جا میں رکھنا غیر قانونی اور انسانی حقوق کے خلاف ہے، وزیر اعلیٰ، اسپیکر اور دیگر افراد کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف مذاکرات کی بات اور دوسری طرف لوگوں کو ناحق جیلوں میں رکھا جاتا ہے، قیدیوں کو اہل خانہ سے ملنے اور ادویات تک رسائی نہیں دی جا رہی، عدالتوں سے ریلیف ملنے کے راستے بھی بند کیے جا رہے ہیں، چیف جسٹس آئینی عدالت، چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نوٹس لیں، عدالتوں کے پاس عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلیے ازخود نوٹس لینے کا اختیار ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ذاتی مفادات اور انا کی بنیاد پر لوگوں کو جیلوں میں رکھنا ملک کیلیے نقصان دہ ہوگا، ملک اور جمہوریت پہلے ہی بہت نقصان اٹھا چکے ہیں، اب وقت ہے ہوش کے ناخن لینے اور ایک قدم پیچھے ہٹنے کا، عقل و فہم سے کام لے کر ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔

