• Home  
  • ول ڈیورانٹ:‌ ہندوستان کی تاریخ کا رمز شناس، فلسفہ کا شناور
- Uncategorized

ول ڈیورانٹ:‌ ہندوستان کی تاریخ کا رمز شناس، فلسفہ کا شناور

برصغیر کی تہذیب و ثقافت، فلسفہ اور اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار اور شخصیات پر اپنی تصنیفات کی وجہ سے ول ڈیورانٹ کو عالمی شہرت ملی اور بطور مؤرخ اس کے کام کو سراہا گیا۔ ول ڈیورانٹ کی انگریزی میں تحریر کردہ کتابوں‌ کے اردو تراجم کے علاوہ دنیا کی کئی زبانوں میں تراجم موجود […]

برصغیر کی تہذیب و ثقافت، فلسفہ اور اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار اور شخصیات پر اپنی تصنیفات کی وجہ سے ول ڈیورانٹ کو عالمی شہرت ملی اور بطور مؤرخ اس کے کام کو سراہا گیا۔ ول ڈیورانٹ کی انگریزی میں تحریر کردہ کتابوں‌ کے اردو تراجم کے علاوہ دنیا کی کئی زبانوں میں تراجم موجود ہیں۔ مصنّف، تاریخ داں اور فلسفی ول ڈیورانٹ 7 نومبر 1981ء میں چل بسا تھا۔

ہندوستان کی بات کی جائے تو یہاں کی تہذیب و ثقافت پر اس کی کتاب میں کئی ابواب پر اعتراض اور بحیثیت تاریخ داں اس پر جانب داری کا الزام بھی لگایا جاتا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ ایسا مصنّف تھا جس کی محنت اور لگن نے برصغیر اس کے خطّے کے لوگوں کو اپنی تاریخ اور مختلف ادوار کے اہم واقعات کو جاننے اور سمجھنے کا موقع بھی دیا۔ اسے ایک فلسفی کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے جس کا طرزِ بیان خاصا مختلف ہے۔ ‘گریٹ مائنڈز اینڈ آئیڈیاز آف آل ٹائمز’ ول ڈیورانٹ کی وہ تصنیف ہے جس میں ہندوستان پر نہایت منفرد اسلوب میں ابواب باندھے گئے ہیں۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ ول ڈیورانٹ نے تشبیہات، استعاروں اور تلمیحات سے کام لے کر اپنی تحریر کو پُراثر بنایا ہے۔ مذکورہ کتاب میں ہندوستان کی تاریخ، تہذیب و تمدّن اور فلسفہ کا قبل از مسیح سے بعد از مسیح مفصّل تاریخی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ول ڈیورانٹ کی دیگر اہم اور مشہور ترین تصانیف میں ’اسٹوری آف فلاسفی‘ اور ’اسٹوری آف سویلائزیشن‘ شامل ہیں۔

اردو زبان میں ول ڈیورانٹ کی کتابوں کا ترجمہ عابد علی عابد، ڈاکٹر پروفیسر محمد اجمل، ظفرُالحسن پیرزادہ اور طیّب رشید و دیگر نے کیا ہے جنھیں بہت اہمیت حاصل ہے۔ ’اسٹوری آف سویلائیزیشن‘ ول ڈیورانٹ کی 11 جلدوں‌ پر مبنی کتاب ہے اور کئی سال کی محنت اور لگن سے مکمل کی گئی یہ کتاب مصنّف کا کارنامہ ہے۔ ول ڈیورانٹ کے یوں تو سارے کام بڑے ہیں لیکن اہم اور نمایاں تصنیف ’سٹوری آف فلاسفی‘ اور گیارہ جلدوں میں ’سٹوری آف سویلائزیشن‘ ہیں۔ اس کتاب میں اسے اپنی اہلیہ ایریل کی مدد بھی حاصل رہی اور کہا جاتا ہے کہ ول ڈیورانٹ نے اس کے بعد مزید کوئی کام نہ بھی کرتے تو یہ گیارہ جلدیں ان کا نام باقی رکھنے کے لیے کافی تھیں۔ اسے 1968ء میں پلٹزر پرائز اور 1977ء میں صدارتی تمغا برائے آزادی سے نوازا گیا تھا۔

امریکی مصنف، مؤرخ اور فلسفی کا پورا نام ول ڈیورانٹ نارتھ ایڈمز تھا۔ وہ میساچوسٹسس میں 5 نومبر 1885ء کو پیدا ہوا۔ اسکول کی تعلیم مکمل کرکے اس نے نیو جرسی شہر کے ایک کالج میں‌ داخلہ لیا اور گریجویشن کرنے کے بعد ایک اخبار سے منسلک ہوگیا۔ اس وقت تک وہ متعدد زبانیں‌ سیکھ چکا تھا اور اپنے اس شوق اور زبانوں پر عبور کی وجہ سے نیو جرسی کی ایک جامعہ میں لاطینی، فرانسیسی، انگریزی اور جیومیٹری پڑھانے لگا۔ 1913ء میں شادی کے بعد اس نے ملازمت چھوڑ دی اور یورپ کے دورے پر نکل گيا اور بعد میں اسے ایک گرجا گھر میں تدریسی خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ فلسفہ اور تاریخ ول ڈیورانٹ کا محبوب موضوع تھے۔ ول ڈیورانٹ نے 1917ء میں کولمبیا یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی تھی۔ اسی زمانے میں اس کی پہلی کتاب شایع ہوئی جس کا نام تھا، “فلسفہ اور سماجی مسائل۔” ول ڈیورانٹ کا خیال تھا کہ فلسفہ میں سماجی مسائل سے گریز کیا جاتا رہا ہے۔ اس کی دیگر کتب منتقلی (Transition) 1927، فلسفہ کی عمارت (The Mansions of Philosophy) 1929، زندگی کی تشریح (Interpretations of Life) 1970 میں شایع ہوئیں۔

ول ڈیورانٹ نے طویل عمر پائی اور زندگی کے آخری ایّام لاس اینجلس میں گزارے۔ آج بھی اس کی کتابیں تاریخ اور فلسفے کے طالب علموں کی راہ نمائی کررہی ہیں اور ان موضوعات بالخصوص ہندوستان کی تہذیب اور مختلف ادوار میں دل چسپی رکھنے والوں میں مقبول ہیں۔

daily jehanuma  @2026. All Rights Reserved.