پاکستان کی مقامی ایئرلائنز میں بڑے پیمانے پر غیرملکی پائلٹس کی بھرتیوں کا انکشاف ہواہے۔
پاکستان ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن نے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بانی ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن عمران اسلم خان نے سیکریٹری دفاع کو خط ارسال کردیا ۔
بانی ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن عمران اسلم نے خط میں سیکریٹری دفاع سے معاملے پر فوری مداخلت کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ غیرملکی پائلٹس کی بھرتیوں سے پاکستانی پائلٹس بے روزگار ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہاہے کہ ملک میں 1500 پائلٹس بیروزگار ہیں،اس وقت 150سے زائد غیرملکی پائلٹس مقامی ایئرلائنز میں بھرتی ہونے کا انکشاف ہواہے،ان غیرملکی پائلٹس کو 15000 ڈالر ماہانہ ٹیکس فری تنخواہیں ادا ہورہی ہیں جو مجموعی طور ماہانہ22 کروڑ 50 لاکھ ڈالر بنتے ہیں۔
عمران اسلم خان نے مزیدکہاہے کہ ملکی ایئرلائنز میں غیر ملکی پائلٹس کو ترجیح دینے سے پاکستانی ہوا بازوں کے روزگار کو خطرات لاحق ہیں، غیر ملکی پائلٹس کی تنخواہوں سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑ رہا ہے، غیر ملکی پائلٹس کی تعیناتی کی مدت چھ ماہ میں بڑھا کر تین سال کردی گئی،غیر ملکی پائلٹس کی بھرتیوں سے متعلق ضابطوں میں تبدیلی پر مقامی ایوی ایشن انڈسٹری کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
خط میں مزیدکہاگیاہے کہ ایئرلائنز کی جانب سے غیر ملکی پائلٹس کی تبدیلی کے ذریعے بھرتیوں کی مدت سے متعلق ضابطوں کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش ہے،ایئرلائنز ایئر بلیو، فلائی جناح اور ایئر سیال میں غیر ملکی پائلٹس بھرتی کیے جارہے ہیں،پاکستانی پائلٹس کی تربیت اور ریٹنگ پر سرمایہ کاری کے بجائے غیر ملکی پائلٹس کی خدمات حاصل کرنے پر سوالات کھڑے ہورہے ہیں۔
بانی ایئرکرافٹ اونرز اینڈ آپریٹرز ایسوسی ایشن عمران اسلم خان نے مطالبہ کیاہے کہ سینکڑوں اہل پاکستانی پائلٹس بے روزگار ہیں،ان کو روزگار فراہم کیا جائے۔

