فالج ایسا مرض ہے جو دنیا بھر میں اموات کی ایک بڑی وجہ ہے، فالج کے شکار فرد کا فوری علاج نہ ہو تو موت کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کا خطرہ بڑھانے والے عناصر اور علامات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
فالج کی 2 اقسام ہیں ایک برین ہیمرج جس میں دماغی شریان پھٹ جاتی ہے جبکہ دوسری قسم میں دماغ کو خون پہنچانے والی شریان بلاک ہوجاتی ہے جس سے آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور دماغ کو نقصان پہنچتا ہے,موجودہ عہد میں جوان افراد میں فالج جیسے جان لیوا مرض کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اب اس کی ایک ممکنہ وجہ سامنے آئی ہے اور وہ ہے ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر رات گئے تک جاگنا، امریکا کے ہارورڈ میڈیکل اسکول کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر رات گئے تک جاگنے سے فالج سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق میں 10 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو مجموعی طور پر 10 لاکھ راتوں کی نیند کے دورانیے پر مشتمل قرار دیا جاسکتا ہے، تحقیق کے دوران ان افراد کی نیند کے ڈیٹا کو ٹریکنگ ڈیوائسز کے ذریعے اکٹھا کیا گیا اور پھر نیند کے دورانیے، معیار اور سونے کے وقت کا تجزیہ کیا گیا۔
محققین نے مختلف دنوں میں نیند کے دورانیے، سونے اور جاگنے کے وقت میں تبدیلیوں کا موازنہ 6 ماہ تک کیا، نتائج سے معلوم ہوا کہ ہر رات سونے جاگنے کے وقت میں کوئی معمول نہ ہونے سے امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک، ہارٹ فیلیئر اور فالج کا خطرہ 20 سے 23 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اس کے مقابلے میں جو افراد روزانہ ایک ہی وقت میں سوتے اور جاگتے ہیں، ان میں دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کا خطرہ 28 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ ویسے تو اکثر تحقیقی رپورٹس میں ہر رات 8 گھنٹے کی نیند پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے مگر سونے جاگنے کا وقت بھی دل کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بڑھانے یا کم کرنے کے لیے اہم ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ سونے جاگنے کا کوئی شیڈول نہ ہونا فالج یا ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عموماً ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر بیشتر افراد معمول کے وقت پر سونے کی بجائے زیادہ دیر تک جاگتے ہیں اور یہ عادت دل کی صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتی۔

