اسلام آباد (30 اکتوبر 2026): پاکستان پر اس وقت اتنا قرض ہے کہ اس قرض پر سود کی ادائیگیاں دفاعی اور ترقیاتی بجٹ سے بھی بڑھ گئی ہیں۔
نیوز کے مطابق رواں مالی سال قرضوں پر سود کی مد میں 80 کھرب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ قرضوں کی ادائیگیوں کے بعد وفاقی حکومت کے پاس صرف 30 کھرب روپے بچنے کا امکان ہے۔
ماہرین نے مالیاتی دباؤ کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، کیونکہ 31-2030 تک قرضوں پر سود کی ادائیگیاں بڑھ کر 100 کھرب روپے تک پہنچ سکتی ہیں۔
قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم کے باعث قومی آمدن کا بڑا حصہ بھی سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہونے کا امکان ہے، جس سے ملکی مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھے گا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں پر سود کی بھاری ادائیگیاں حکومتی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں اور معیشت کے دیگر شعبوں کے لیے دستیاب وسائل کو بھی محدود کر سکتی ہیں۔

