کراچی : پیپلز پارٹی ایم پی اے پر سیاسی مخالفین کو این سی سی آئی اے کے ذریعے ہراساں کرنے کے الزام پر وفاقی وزارتِ داخلہ، ایف آئی اے اور دیگر فریقین سے 11 نومبر کو جواب طلب کر لیا۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکنِ صوبائی اسمبلی آصف موسیٰ کے خلاف سیاسی مخالفین کو این سی سی آئی اے کے ذریعے ہراساں کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی۔
بلدیہ ٹاؤن سے اینٹی انکروچمنٹ کے ملازم نے ایم پی اے آصف موسیٰ کے خلاف عدالت عالیہ سے رجوع کیا۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ایم پی اے آصف موسیٰ کے بھائی سائبر کرائم ایجنسی میں بطورسَب انسپکٹر تعینات ہیں، جس کا استعمال سیاسی انتقام کے لیے کیا جا رہا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر جہانگیر کلہوڑو نے عدالت کو بتایا کہ سیاسی مخالفت کی بنیاد پر ایم پی اے اب تک درخواست گزار کو 3 مرتبہ معطل کروا چکے ہیں۔
FOLLOW US ON ARY TUBE
درخواست گزار کے مطابق جب انہوں نے اپنی بے گناہی سے متعلق سوشل میڈیا پر حقائق بیان کیے تو اتھارٹی نے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وزارتِ داخلہ اور ایف آئی اے: سمیت دیگر تمام فریقین سے 11 نومبر کو تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔
عدالت نے آئندہ سماعت تک درخواست گزار کے خلاف کسی بھی قسم کی منفی يا انتقامی کارروائی روکنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
