موبائل بینکنگ ایپس ہیک ہونے لگی ، شہریوں کے اکاؤنٹ سے رقم چوری ہونے لگی ۔این سی سی ائی اے کو آن لائن حراسانی کے بعد سب سے زیادہ کیسز آن لائن فراڈ اور چوری کے رپورٹ ہونے لگے
عوام کے ساتھ پارلیمنٹرینز کے بھی بینک اکاوئنٹس ہیک ہونے سے این سی سی اے متحرک ہو گیا ۔قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ہدایت پر سٹیٹ بینک ، این سی سی آئی اور پی ٹی اے کی جوائنٹ ٹیمیں تشکیل پائے گی ۔جوائنٹ ٹیمیں ملوث بینکوں ، جعلی سموں کا اجرا کرنے اور فرنچائزوں کے خلاف کام کرے گی
این ای سی ائی اے ذرائع کے مطابق بینک ملازمین ، سم کمپنیوں کے ملازمین اور نوسر بازوں نے گینگ بنا رکھے ہیں۔بینک ملازمین اپنے صارفین کا ڈیٹا لیک کرتےہیں سم فرنچائز کمپنیاں ان صارفین کا جعلی ڈوپلیکیٹ سم جاری کرتے ہیں ۔جعلی سم کارڈ پر ون ٹائم پاسورڈ جاری ہوتا ہے جس کے بعد بینکنگ ایپ سے رقم چوری ہوتی ہے ۔صارف کی سم بند ہوتی ہے اسے ایپ سے رقم نکلنے کا پتا ہی نہیں چلتا ۔
سم دوبارہ ایکٹو ہونے تک صارف لٹ چکا ہوتا ہے جس کا ازالہ بھی نہین ہوتا ۔رقم نکالنے والا گینگ رقم کو برانچ لیس بینکنگ سے مختلف اکاوئنٹس میں فوری تقسیم کر دیتا ہے ۔جاز کیش ، ایزی پیسہ کے سب سے زیادہ فراڈ کیس رپورٹ ہو رہے ہیں ۔

