میررضاعلی قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کی ایگزیکٹو سمری میں اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق میر رضاقتل کیس میں پولیس تفتیش کو سنگین کوتاہیوں کا سامنا رہا۔ میر رضا کی موت کو خودکشی قرار دینے کے ابتدائی پولیس مؤقف پر جوڈیشل کمیشن نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ پشت سے لگنے والی گولی کا زخم قرار دیا گیا۔
کیس میں شواہد کے تحفظ اورپولیس تفتیش کےطریقہ کار میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کمیشن رپورٹ میں کہا گیا کہ ابتدائی تفتیش میں ممکنہ کوراپ کے خدشے کو مکمل خارج نہیں کیا جا سکتا۔
کیس کی مزید تحقیقات کیلئے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جےآئی ٹی بنانےکی سفارش کی گئی اور جےآئی ٹی میں آئی ایس آئی، آئی بی، رینجرز، سائبرکرائم کے نمائندے شامل کرنے کی سفارش کی گئی۔
اہلکاروں کےکردارکی تحقیقات کیلئےایف آئی اےکی سربراہی میں کمیٹی بنانے، قصوروار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کی سفارش بھی کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ شواہد متاثر ہونے کے باعث کیس کی سخت اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔ جوڈیشل کمیشن نے میررضا قتل کیس کی رپورٹ 15 اکتوبر کو وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی تھی۔
سفارشات
کراچی میں نوجوان میر رضا کیس کی تحقیقات سے متعلق جوڈیشل کمیشن نے سفارشات پیش کر دیں۔
کمیشن کی رپورٹ کے مطابق میر رضا کیس میں پولیس کی تحقیقات پر عوامی اعتماد شدید متاثر ہوا، شواہد متاثر ہونے کے باعث مزید تحقیقات کے لیے جدید اور سائنسی طریقہ کار اپنانے کی سفارش کی گئی۔
کمیشن نے سفارش کی کہ سندھ حکومت میر رضاکیس میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے، آئی ایس آئی، آئی بی، رینجرز اور این سی سی آئی اے کے نمائندوں پر مشتمل جےآئی ٹی بنائی جائے اور جےآئی ٹی کی سربراہی ڈی آئی جی عرفان بلوچ کو سونپی جائے۔
پولیس افسران کی ممکنہ غفلت اور شواہد میں ردوبدل کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنائی جائے اور پولیس افسران کے خلاف فوجداری اور محکمانہ کارروائی کی جائے جب کہ ابتدائی تحقیقات میں شامل اہلکاروں کے کردار کا تعین کرنے کیلئے انکوائری کی جائے۔
کمیشن کے مطابق پولیس کی تحقیقات میں سنگین کوتاہیاں اور غیرپیشہ ورانہ طرز عمل سامنے آیا لہذا کیس میں شواہد کے تحفظ اور تفتیشی عمل میں شفافیت یقینی بنانے جائے۔
