اسلام آباد : سینیٹ اجلاس میں سینیٹر طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ نادرا کے 100 ملازمین کے خلاف کرمنل پروسیڈنگز شروع کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ اجلاس کے دوران نادرا، پاسپورٹ فیسوں اور بیرون ملک پاکستانیوں کے مسائل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سینیٹر طلال چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ نادرا نے رشوت کے عوض غیر ملکیوں کو جعلی فیملی ٹری میں شامل کرنے والے 100 ملازمین کے خلاف مجرمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
سینیٹ اجلاس میں بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے بتایا کہ سعودی عرب سے جعلی شناختی دستاویزات اور نادرا ریکارڈ سے متعلق 5 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئی تھیں، جس پر فوری اور سخت ایکشن لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ ملازمین نے رشوت کے عوض غیر ملکی شہریوں کو پاکستانی خاندانوں کے فیملی ٹری میں غیر قانونی طور پر شامل کرایا، جس سے قومی سیکیورٹی اور بیرونِ ملک ملک کا وقار متاثر ہوا۔
سینیٹر نے بیرون ملک غیر قانونی طور پر جانے والوں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد سے متعلق کہا کہ “ہم نے بیرون ملک اپنا بہترین ٹیلنٹ بھیجنا ہے، مجرم نہیں، جن ممالک میں گھناؤنے جرائم ہوتے ہیں، وہاں بعض اوقات پاکستانی سرفہرست نظر آتے ہیں، یہ چند مجرم بیرون ملک مقیم 1 کروڑ محنت کش پاکستانیوں کے لیے ویزہ اور دیگر انتظامی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کے سخت اقدامات کے باعث غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں کی تعداد میں 64 فیصد کمی آئی ہے۔
پاسپورٹ فیسوں میں اضافے سے متعلق ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ کی فیس کئی سال کے عرصے بعد بڑھائی گئی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پاسپورٹ کی فیس سے پورا ادارہ چلتا ہے اور اس اضافے کے باوجود پاکستان میں پاسپورٹ کی فیس خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں اب بھی کافی کم ہے۔

