اسلام آباد : عالمی بینک کے مطابق خطے میں یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کرنے والے انتہائی غریب افراد میں سے 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں، یہ واحد خطہ ہے جہاں غربت کی شرح اب بھی کورونا وبا سے پہلے کی سطح سے زیادہ ہے۔
عالمی بینک کی چششم کشا رپورٹ میں ہونے والے اس ہوشربا انکشاف نے محب وطن افراد کو انتہائی تشویش میں مبتلا کردیا۔
اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں میزبان ماریہ میمن نے اپنے تجزیہ میں اس کی وجوہات اور معاشی حالات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
اکتوبر 2026 میں جاری ہونے والی عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقا، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل خطے میں یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدنی والے انتہائی غریب افراد میں تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔
پاکستان میں یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدنی کی بنیاد پر غربت کی شرح 2018-19 سے 2024-25 کے دوران 64 فیصد بڑھی ہے، جبکہ یومیہ 4.20 ڈالر سے کم آمدنی کی بنیاد پر غربت کی شرح میں بھی 32فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں کورونا وبا کے تباہ کن اثرات، شدید مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، سیلاب اور طویل معاشی مشکلات شامل ہیں، ان عوامل کے باعث لوگوں کی آمدنی، روزگار کے مواقع اور قوت خرید متاثر ہوئی۔
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غربت کی صورتحال اس حد تک خراب ہوئی ہے کہ اس نے پورے خطے میں غربت میں اضافے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
یہ دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں غربت کی شرح اب بھی کورونا وبا سے پہلے کی سطح سے زیادہ ہے اور اس میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
ٹرانسکرپٹ کے مطابق 2026 میں مہنگائی کی شرح 7.1 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے جو 2027 میں بڑھ کر 8.2 فیصد ہوسکتی ہے، جبکہ 2025 میں یہ شرح 4.5 فیصد تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے باعث غریب خاندانوں پر اضافی دباؤ پڑ رہا ہے، پاکستان ان ممالک میں بھی شامل ہے جہاں آبادی کے ایک بڑے حصے کو خوراک کی شدید کمی یا اس سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق ترقی پذیر معیشتوں میں کم آمدنی والے گھرانے اپنی مجموعی آمدنی یا اخراجات کا تقریباً 35 سے 50 فیصد حصہ خوراک پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جس کے باعث اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ان خاندانوں کے لیے بڑے معاشی مسائل پیدا کردیتا ہے۔

