اسلام آباد : پاکستانیوں کی تقریباً 50 فیصد شینگن ویزا درخواستیں مسترد ہونے کا انکشاف پر یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ویزا کے لیے مضبوط اور مکمل دستاویزات فراہم کرکے اپنے امکانات بہتر بنا سکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستانیوں کی شینگن ویزا درخواستیں مسترد ہونے کی تقریباً 50 فیصد شرح پر یورپی یونین نے تشویش کا اظہار کیا۔
یورپی یونین کے کمشنر میگنس برونر نے کہا ہے کہ اس صورتحال میں بہتری کے لیے پاکستان اور یورپی حکام کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
پاکستان کے پہلے دورے کے موقع پر ایک انٹرویو میں میگنس برونر کا کہنا تھا کہ پاکستانی درخواست گزار ویزا کے لیے مضبوط اور مکمل دستاویزات فراہم کرکے اپنے امکانات بہتر بنا سکتے ہیں، جبکہ یورپی یونین کو بھی قانونی سفر تک رسائی آسان بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔
میگنس برونر نے ویزا اپائنٹمنٹ کے حصول میں پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا قانونی طور پر یورپ جانے کے خواہش مند افراد کے لیے یہ عمل مایوس کن ہوسکتا ہے تاہم یورپی کمیشن ویزا طریقہ کار کو بہتر بنانے اور درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے کے لیے رابطہ کاری پر کام کر رہا ہے۔
غیر قانونی ہجرت کے حوالے سے یورپی یونین کمشنر نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعاون کے نتیجے میں غیر قانونی ہجرت میں 50 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے تاہم پاکستانی حکام کے مطابق گزشتہ 18 ماہ کے دوران غیر قانونی ہجرت میں 64 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
میگنس برونر نے نوجوان پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ انسانی اسمگلروں کے جھانسے میں آنے اور خلیجی ممالک، مصر اور لیبیا کے راستے اٹلی اور یونان پہنچنے کے خطرناک سفر سے گریز کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان تعلیم جاری رکھیں، مفید مہارتیں حاصل کریں اور یورپ جانے کے لیے محفوظ اور قانونی راستے اختیار کریں۔

